مرکزی وزیر نےکہا- شہریت قانون پرلوگوں کا مزاج نہیں سمجھ سکی بی جے پی

02:49PM Thu 26 Dec, 2019

نئی دہلی: شہریت ترمیمی قانون پرملک کے سبھی حصوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ دارالحکومت دہلی سمیت ملک کے کئی حصوں میں ابھی بھی اس کولے کراحتجاج جاری ہے۔ اس قانون کو لے کراب بی جے پی کے اندرہی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ مرکز کے وزیربھی تسلیم کررہے ہیں کہ حکومت اس غصے کوسمجھنے میں ناکام رہی۔ شہریت ترمیمی قانون پر مرکزی حکومت گزشتہ 6 سال کی سب سے بڑی مخالفت جھیل رہی ہے۔ اس قانون کے مطابق پاکستان، افغانستان اوربنگلہ دیش سے آئے پناہ گزینوں کوپناہ دینے کی بات کہی گئی ہے، ان میں مسلمانوں کوشامل نہیں کیا گیا ہے۔ رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق، بی جے پی کے کئی لیڈراس طرح کے احتجاج سے حیران ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کچھ احتجاجی مظاہرے کے لئے توتیار تھے، لیکن یہ اتنے بڑے پیمانے پرہوں گے، اس کا اندازہ نہیں تھا۔ اب پارٹی اورحکومت اس بحران سے ابھرنے کی کوشش کررہی ہے، جس سے شہروں میں بڑھتے احتجاجی مظاہرے کو کم کیا جاسکے۔ مرکزی وزیرسنجیو بالیان نے رائٹرس سے بات چیت میں بتایا کہ میں نے حقیقی طورپرایسی مخالفت نہیں دیکھی ہے۔ میرے علاوہ بی جے پی کے دوسرے لیڈروں کواس طرح کی مخالفت کی امید نہیں تھی۔ حکومت اوراس کی تنظیمیں حمایت میں چلا رہی ہیں مہم مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ ایک انٹرویومیں واضح طورپرکہہ چکے ہیں کہ سی اے اے شہریت  کے بارے میں نہیں ہے اوراین آرسی پرابھی کوئی تبادلہ خیال نہیں ہوا ہے۔ دوسری جانب حکومت کے ایک وزیرکا کہنا ہے کہ ابھی ہم سبھی ڈیمیج کنٹرول کے موڈ میں ہیں۔ اسی لئے بی جے پی اوراس کی معاون تنظیمیں اس موضوع پربیداری مہم چلا رہی ہیں۔ اس میں بتایا جارہا ہے کہ یہ قانون بھید بھاؤ والا نہیں ہے۔ آرایس ایس بھی اس قانون کی حمایت میں شہروں میں مہم چلا رہی ہے۔
حکومت کا داؤں الٹا پڑگیا: کانگریس حکومت کے اس قانون کے خلاف سبھی اپوزیشن جماعتیں احتجاجی ظاہرہ کررہے ہین۔ کانگریس نے بھی محاذ کھول رکھا ہے۔ مہاراشٹر کانگریس کے لیڈرپرتھوی راج چوہان نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلی بارہے جب کوئی قانون مذہب کی بنیاد پربنایا گیا ہے۔ بی جے پی کی ہندو راشٹر بنانے کی حکمت عملی ناکام ہوگئی ہے۔