ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کے رول سے نئی نسلوں کو واقف کرانا نہایت ضروری ہے ؛ مولانا الیاس ندوی

12:44PM Sun 25 Aug, 2013

  ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کے رول سے نئی نسلوں کو واقف کرانا نہایت ضروری ہے ؛ مولانا الیاس ندوی بھٹکلیس نیوز / 25 اگست، 13 بھٹکل/ (رضوان گنگاولی) "ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا رول بہت ہی اہم رہا ہے اور یہ تحریک اصل میں مسلمانوں نے شروع کی تھی ۔ اس کا اندازہ ہم اس طرح لگا سکتے ہیں کہ 1857ء کے ایک سال میں یہاں پر 24/ہزار مسلمانوں نے وطن عزیز کے لئے اپنی جانوں کو قربان کیا تھا ۔ ان قربانیوں سے نئی نسلوں اور خاص کر غیر مسلم نسل کو واقف کرانا نہایت ضروری ہے ۔ اس سے آپس کی غلط فہمیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے" ۔ ان خیالات کا اظہار ساحل آن لائن کی طرف سے رابطہ سوسائٹی کے قاضیا حسن ہال میں "ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا رول" کے عنوان پر منعقد تقریری مقابلہ میں مولانا الیاس جاکٹی ندوی صاحب نے کیا ۔ مولانا موصوف نے اس مقابلہ کے انعقاد پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ادارہ کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے ۔ مولانا محترم نے اس موقع پر موجود سرکاری لیڈران اور عمائدین شہر سے گزارش کی کہ یوم جمہوریہ یا یوم آزادی کے موقع پر ایسی تقریریں کرنے کی اجازت دی جائیں جس میں جنگ آزادی میں مسلمانوں کے کردار کے متعلق باتیں آئیں تاکہ نئی نسل مسلمانوں کی قربانیوں کو جان سکے ۔ مولانا الیاس ندوی صاحب نے آخر میں آزادی کے لئے اپنی جانوں کو قربان کرنے والے مسلمان مجاہدین کی ایک طویل فہرست بیان کی ۔ اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر وی آر پی منوہر نے اس موقع پر اپنے تأثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مقابلے طلبہ میں منعقد ہونے چاہئیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے مقابلے بھی منعقد کئے جائیں جس سے ملک کی ترقی کے لئے طلبہ کی طرف سے مشورے ملیں تاکہ ان کی روشنی میں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے ۔ رکن اسمبلی مسٹر منکال ویدیا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی آزادی میں ہندو ، مسلم ، سکھ ، عیسائی سبھوں نے اپنے اپنے طور پر شرکت کی تھی لیکن ہم جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے ہے ہمیں ہر جگہ سوئے دو تین مسلم لیڈران کے ناموں کے پھر کوئی نام سنائی نہیں دیتا اور ہماری نئی نسل بھی یہی سمجھتی آرہی ہے کہ یہی  دو تین مسلمان ہی آزادی میں شریک رہے تھے ۔ موصوف منکال ویدیا صاحب نے اس موقع پر آزادی میں مسلمانوں کے کردار پر اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے جنگ آزادی میں شریک بہت سارے مسلمانوں کے ناموں کا تذکرہ کیا ۔ صبح سے شروع ہونے والے اس مقابلے کو تین نشستوں میں تقسیم کیا گیا تھا ، صبح سے دوپہر تک کنڑا تقریری مقابلہ اور دوپہر کے بعد اردو تقریری مقابلہ شروع کیا گیا ۔ عصر کی نماز کے بعد اردو اور کنڑا کے پانچ ممتاز طلبہ کے مابین مقابلہ منعقد کیا گیا ۔ مقابلہ میں اول آنے پر 1000/ ہزار روپئے مع سند ، دوم آنے پر 7000/ ہزار روپئے مع سند اور سوم آنے پر 5000/ ہزار روپئے مع سند دیے گئے۔ اس کے علاوہ 10/ ممتاز طلبہ کو ایک ایک ہزار روپئے مع اسناد اور تمام شریک طلبہ کو تشجیعی انعامات سے نوزا گیا ۔ اس موقع پر ریفل ڈرا کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس میں 6/ انعامات بشمول 2/موبائیل تھے۔ اردو تقریری مقابلہ میں اول مقام ابراہیم گلریز ابن ڈاکٹر محمد حنیف شباب صاحب ، دوم سید عبداللہ مالکی اور سوم محمد سمعان اکرمی نے حاصل کیا ۔ کنڑا گروپ میں اول وشال راما نائک ، دوم راہل کے نائک اور سوم آدتیا کے ہیگڈے نے حاصل کیا ۔ اس موقع پر دائس پر چیرمین ساحل آن لائن جناب ایس ایم سید خلیل الرحمٰن صاحب ، مینیجنگ ایڈیٹر جناب عنایت اللہ گوائی صاحب ، کنوینر اجلاس جناب جیلانی محتشم صاحب اور دیگر حضرات موجود تھے ۔ tanzeem-eid-milan03