رام لنگا ریڈی نے کیمپیا کو دوررکھا پولیس امور میں مداخلت کرنے پر استعفیٰ کی دھمکی

03:37PM Fri 15 Sep, 2017

بنگلور( بھٹکلیس نیوز ) :۔ وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی نے کہا کہ انہیں سلامتی مشیر کیمپیا کی ضرورت نہیں ہے اگر وزیر اعلیٰ ہو یا کیمپیا نے پولیس امور میں مداخلت کی تو وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دینگے۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ رکن اسمبلی کے طورپر کام کرتے ہوئے 30سال کا تجربہ ہے اس کے علاوہ وزیر کے طورپر کئی قلمدانوں کی ذمہ داری نبھائی ہے اور وزیر داخلہ کا قلمدان تھوڑانیا ہے اور اس قلمدان کو بھی بخوبی نبھانے کی امید ہے ۔سب سے پہلے ہر عوامی نمائندے کو کام اور خدمت کرنے کا جذبہ ہونا چاہےئے۔ یہ سچ ہے کہ کئی صحافی لوگوں اور اعلیٰ پولیس افسران نے کیمپیاکے تعلق سے کئی معلومات فراہم کی تھیں اور کیمپیا نے پولیس اہلکاروں کے تبادلوں اور ہر کام میں مداخلت کرنے اور پولیس اہلکارو ں پر دباؤ ڈالکر کئی قانون کے خلاف کے کام کروائے تھے اس کے علاوہ حکومت کے غلط مشورے اور تجاویز پیش کرکے ایک طرح سے شرمندہ اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کیمپیا سدارامیا کے قریبی ساتھی ہیں۔ اس لئے رام لنگا ریڈی نے وزیر اعلیٰ کو پہلے ہی بتادیا ہے کہ اگر کیمپیا نے کسی بھی معاملہ میں مداخلت کی تو وہ وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے لئے تیار رہیں گے۔ کیمپیا سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر پرمیشور اور کے جے جارج سے بہت قریب تھے۔ دونوں نے کیمپیا کے مشوروں اور تجاویز پر عمل کرکے بدنامی کا سامنا کیا تھا۔ رام لنگا ریڈی نے صحافی اور سماجی کارکن گوری لنکیش کے قتل معاملہ اور بی جے پی کی بائک ریالی معاملہ کو بخوبی سلجھایا تھا۔کانگریس اعلیٰ کمان اور لوگوں نے بھی رام لنگا ریڈی کی تعریف کی تھی۔ گوری لنکیش کے قتل کو سلجھانے کے تعلق سے رام لنگا ریڈی نے ریاست کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس روپ کمار دتہّ اور سابق ڈی جی پی ڈاکٹر وجئے کمار سنگھ سے مشورہ لیا تھا اور ان کے مشورے پرہی خصوصی جانچ ٹیم ( ایس آئی ٹی) کا اعلان کیا گیا تھا ۔دوسری طرف کیمپیا نے بھی اس کی شکایت وزیر اعلیٰ سے کی ہے۔