جامع العلوم رہا ئشی ادارہ ( بنی کپہ ) صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور حضرت امیر شریعت کا خطاب
02:39AM Tue 4 Feb, 2014
اسلام نے سب سے زیادہ تعلیم کی اہمیت پر زور دیا ہے
بھٹکلیس نیوز ؍ 3 فروری،14
بنگلور ؍ (نامہ نگار) تعلیم و تعلم اسلام کا پسندیدہ مشغلہ ہے اس کی اہمیت میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلی آ یت اتاری اسی کی بڑی تا کید فر ما ئی تاکہ امت مسلمہ تعلیم کے زیور سے آرا ستہ ہو لہذا شروع دن ہی سے اسلام کے ماننے والوں نے اس کی اہمیت کو سمجھا صرف اسلام کے ابتدا ئی سو بر سوں میں امت مسلمہ دنیا کی سب سے زیادہ تعلیم یا فتہ قوم بن گئی صرف اتنا ہی نہیں بلکہ تحقیق کے میدان میں بھی اس نے بڑے نمایاں کام انجام دئے اور ایسے ایسے فنون کی بنا ڈالی جو کسی اور قوم کے بس کی بات نہیں وجہ اس کی یہ تھی کہ اللہ کا کلام اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریحات ہی در اصل علم اور علم کا سر چشمہ ہیں دنیا کی ساری قومیں اسی قوم و ملت کی خوشہ چیں اور اسی کا دیا ہوا فیض پا رہی ہیں پھر وہ سو سال کے بعد جو مقام حاصل کر چکی تھی وہ پانچ سو سے زا ئد برسوں تک بر قرار رہا پھر یو روپ نے سبقت لے لی لیکن کو ئی یہ نا سمجھے کہ یہ یو روپ کی سبقت ان کی کسی ایسی صفت کی بنا پر ہے جو مسلمانوں میں نہیں بلکہ صرف محنت اور لگن ہے کہ جو ان میں آ ئی اور غفلت اور کا ہلی ہم میں آ ئی اب معا ملہ بالکل الٹا ہو گیاکہ وہ حاکم و سر براہ اور ہم ان کے فیض یا فتہ کی حیثیت میں ہو گئے ہم کو اپنا کھو یا ہوا پرا نا وقار حاصل کر نا ہو تو بس ایک ہی را ستہ ہے اور وہ ہے علم کا را ستہ ہم اپنے بچے بچے کو علم سے آگاہ اور آ را ستہ کریں ۔ مذکورہ زرین و بیش بہا خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے بتاریخ 3فروری 2014 ء بروز پیرجامع العلوم رہا ئشی اسکول (بنی کپہ ) میں ادارہ کی نئی تعلیمی عمارت کا افتتاح فر مانے کے بعد اساتذہ و طلبہ سے خطاب کر تے ہو ئے منعقد ہو نے والے اجلاس میں فر مایا او ر آپ نے مزیدکہاکہ اللہ نے دنیا کی حیثیت ایسی رکھی ہے کہ اس پر کسی قسم کا جبر نہیں جو اس پر محنت کر ے گا وہ اس کو پا لے گا کا فر منکر خدا دنیا پر محنت کرتا ہے تو وہ بھی اس سے حصّہ حاصل کر لیتا ہے لیکن مسلمان کا مسئلہ کچھ اس طرح ہے کہ دنیا میں بھی اپنا حصّہ لے لیتا ہے اور آخرت میں بھی ،آج مسلمان بحیثیت مسلمان اسلام کا ماننے والا اللہ پر ایمان و یقین رکھنے والا ہو نے کی حیثیت سے آخرت میں بہت نفع اور کا میابی سے ہمکنار ہے اسلام سے بہتر ظاہر ہے کہ کہیں دوسرا دین نہیں ہو سکتا اس لئے آخرت کے اعتبار سے مسلمان کامیاب ہے لیکن دنیا کے اعتبار سے دیگر اقوام میں محنت اور جد و جہد کے ذریعہ مسلمانوں پر سبقت لے لی اب مسلمانوں کو بھی بیدار اور چو کنا ہو جانا چا ہئے اور کوشش کے ساتھ ہر میدان میں آ گے بڑھنے کی فکر کر نی چا ہئے الحمد للہ آج مسلمانوں کے تعلیمی ادارے بالخصوص یہ ادارہ جامع العلوم جس کے بنیادوں میں مولانا ریاض الرحمن ؒ رشادی اور ان کے رفقاء کی عرق ریزی ہے جس کو دیکھ کر بہت مسرت ہو تی ہے اور اس احاطہ میں دار القرآن زیر تعمیر منصو بہ جو حقیقت میں مولانا علیہ الرحمۃ کا دیرینہ خواب ہے جو انشاء اللہ ان کے رفقاء اس کو ضرور پورا کریں گے اور یہ بہت جلد شرمندۂ تعبیرہو جا ئے گا میری دعا ئیں ہیں کہ یہ ادارہ خوب تر قی حاصل کرے اور خوب پھلے پھولے مثالی اور قابل تقلید طلبہ یہاں سے فا رغ ہوں اجلاس ھذا کے صدر حکیم الملت امیر شریعت کر نا ٹک نے اپنے مختصر پر مغز خطاب میں فر مایا نبی کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں سے دو اہم مقاصد تعلیم اور تزکیہ ہیں آج کے دور میں تعلیم کے سلسلہ میں کا فی بیداری اور عروج پایا جاتا ہے ہر طرف علم سیکھنے سکھا نے والوں کی چہل پہل اور اسکول کالج جا تے ہو ئے طلباء کی قطاریں نظر آ تی ہیں لیکن دوسرا مقصد جو تزکیہ ہے اس سلسلہ میں کا فی غفلت اور کو تا ہی اور تسا ہل کا معا ملہ بر تا جا رہا ہے ہر تعلیمی ادارہ بلکہ ہر شہر اور ملک اس تر بیت کے فقدان کی وجہ سے پریشانیوں میں مبتلا ہیں قانون بنا ئے جا رہے ہیں اور اخلاقی ضابطہ سمجھا کر سختی بر تی جا رہی ہے اور بد اخلاقی بے ضابطہ گی بد تہذیبی پر سزائیں تجویز کی جا تی ہیں لیکن تعلیم گا ہوں کو تر بیت پر تو جہ کر تے ہو ئے اس کو تر بیت گاہ بھی بنانے کی فکر کی جا نی چا ہئے۔
روز اول سے میں جامع العلوم کو دیکھتا آ رہا ہوں مولانا ریاض الرحمن رشادی علیہ الرحمۃ نے اس کی فکر فر ما ئی اور ادارہ کو اسم با مسمیٰ بنانے کی جد و جہد کی اس ادارہ میں عصری علوم کا بھی اور نبوی علوم کا بھی اور دونوں ہی شعبوں کے لئے تعلیم کے ساتھ تر بیت اور اخلاقی سدھار کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے اس کے لئے جامع العلوم کا مکمل عملہ قابل مبارکباد ہے ۔
جامع مسجد کے خطیب و امام حضرت مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے اپنے افتتاحیہ اور استقبالیہ میں فر مایا کہ کہ آج ان بزرگ اللہ والوں کا قافلہ ہمارے اس ادارہ جامع العلوم میں رونق افروز ہے یہ ہمارے لئے بڑی سعادت و خوش نصیبی کی بات اس ادارہ کی تیز تر قی کا اصل محرک ہی ان بزرگوں کی آمد اور ان کی دعا ئیں ہیں جامع العلوم کی یوم تا سیسی ہی سے ذمہ داران و با نیان نے اس بات کا خیال رکھا اور موقع موقع سے اکا بر کی یہاں تشریف آوری ہو تی رہی آج بحمد اللہ حضرت صدر آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ کے دست مبارک سے نئی درسگاہ کی عمارت کا افتتاح اور دار القرآن کی بحسن خوبی تکمیل و تر قی کے لئے دعا ئیں ہوئی ہیں یہ دار القرآن مولانا علیہ الرحمن کی شدید خواہش اور تڑپ اور حضرت مفکر اسلام مولانا علی میاں علیہ الرحمہ کی پہلی کدا ل کا نقشہ اور نمونہ ہے خدا چا ہے تو بہت جلد اس کی تکمیل ہو جا ئے گی ۔
ادارہ کے سکریٹری الحاج عتیق احمد نے جملہ حا ضرین کی خدمت ہدیۂ تشکر پیش کیا اجلاس کا آغاز مولانا عمیر عبد العزیز رشادی مدرس جامع العلوم کی قرآت سے ہوا ادارہ کے نا ئب صدر الحاج سید امرتضیٰ حسین عرف غفران ساحب نے فرائض نظامت ا نجام دئے اور آخر میں حضرت صدر بورڈ و مہمان خصوصی کی مستجاب دعاؤں پر اجلاس اختتام پذیر ہوا ۔
اجلاس میں مذکور میں اساتذہ و طلباء کے علاوہ مہمان علماء کرام عما ئدین شہر و ذمہ داران ادارہ کثیر تعداد میں شریک تھے جس میں حضرت مولانا بلال عبد الحئی حسنی ندوی ، حضرت مولانا محمود حسنی ندوی ، حضرت مولانا سحبان ندوی ، حضرت مولانا ڈاکٹر ظہیر احمد را ہی فدا ئی ، حضرت مولانا عبد الغفور باقوی ، حضرت مولانا سید مصطفیٰ رفا عی جیلانی، حضرت مولانا شبیر احمد ندوی ، حضرت مولانا صغیر احمد ندوی اور جملہ ذمہ داران میں جامع مسجد الحاج مقبول احمد صدر جامع مسجد سٹی، الحاج سید نور الامین انور نائب سکریٹری جامع مسجد، الحاج محمد اطیع اللہ خان خازن جامع مسجد سٹی ، عبد الغفور انٹر آڈیٹر، نوید احمد ٹرسٹی ، جے شفیع اللہ ٹرسٹی ،حافظ یل محمد فاروق ٹرسٹی ، محمد اشفاق عرف تایا ٹرسٹی ، عما ئدین شہر میں سید ضمیر پاشاہ، یس فا ضل مالک عرشیہ ریلیٹی ، سید علیم مالک یس اے بلڈرس، معروف صنعت کار و تا جر سردار احمد، کوثر احمد و برادران مالک جو ہر بازار ، ، منیر احمد یس یم ٹیوب، مجاہد علی بابا وغیرہ شریک اجلاس رہے۔