حکومت پرانے نوٹ تبدیل کرنے کے فیصلہ پر روک لگانے پرغور نہیں کر رہی ہے :ذرائع
03:49PM Sat 19 Nov, 2016
نئی دہلی، (ایف اویس)
حکومت پرانے نوٹوں کے ایکسچینج پر پوری طرح روک لگانے کے فیصلہ پر غور نہیں کر رہی ہے۔سرکاری حکام کی جانب سے یہ صفائی ایسے وقت میں آئی ہے جب جمعہ کو ہی کچھ سرکاری ذرائع نے دعوی کیا تھا کہ حکومت کو لگتا ہے کہ نوٹ تبدیل کرنے کی تجویز کا غلط فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور یہ بینکنگ سسٹم میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا جس سے عوام کے درمیان کھلبلی مچ جائے۔غورطلب ہے کہ جب سے نوٹ بند ی کا فیصلہ لیا گیا ہے اس کے بعد سے کچھ میڈیا خبروں میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 500اور 1000روپے کے نوٹوں کو تبدیل کرنے کے لیے ایک ہی شخص بار بار آ رہا ہے۔اس وجہ سے جو ضرورت مند ہیں انہیں پیسہ نہیں مل پا رہا ہے۔500 اور 1000 روپے کے نوٹوں پر پابندی لگانے کے بعد حکومت نے کہا تھا کہ ان پرانے نوٹوں کو سال کے آخر تک بینک میں جمع کروا دیا جائے۔اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ فی الحال کے لیے 4 ہزار روپے تک کے پرانے نوٹوں کو 500 اور 2ہزار روپے کے نئے نوٹوں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔اسی ہفتے اس حد کو بڑھا کر 4500روپے کر دیا گیا تھا جسے جمعرات کوپھر گھٹا کر 2000روپے کر دیا گیاہے ۔وزارت خزانہ کے حکام نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے ثبوت دیکھنے کو ملے ہیں کہ نئے نوٹ لینے کے لیے کسی اور کے لیے کوئی اور لگ رہا ہے یا پھر ایک ہی شخص بار بار لائن میں لگ رہا ہے۔زیادہ تر ماہر اقتصادیات نے حکومت کے اس فیصلے لینے کے پیچھے کی نیت کی حمایت کی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ زیادہ تر حالات یہ دکھا رہے ہیں کہ حکومت اس فیصلے کے نفاذ کو لے کر تیار نہیں تھی اور اسے اندازہ نہیں تھا کہ لوگوں کو کس حد تک پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔