ملک کے بے روزگاروں کی تعداد بھی پتہ نہیں کر پائی مودی حکومت!
01:53PM Sat 27 Apr, 2019
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر اپنے ’من کی بات‘ کی اور چلتے بنے۔ موقع تھا وارانسی سیٹ سے ان کے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا، اور جگہ تھی بنارس کلکٹریٹ۔ حالانکہ بحث گرم تھی کہ وزیر اعظم پریس کانفرنس کریں گے، لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ اور ہاں، اس درمیان وزیر اعظم کا ایک اور چمکتا دمکتا انٹرویو سامنے آیا، جس میں کچھ نیا تو نظر نہیں آیا، البتہ یہ ضرور پتہ چل گیا کہ کوئی ہے جو پی ایم کا رازدار ہے۔
جب سے پی ایم مودی نے اقتدار سنبھالا ہے، ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی ہے۔ اس لیے ماحول کافی گہما گہمی والا تھا۔ لیکن پی ایم نے پرچہ بھرا، کلکٹریٹ سے باہر کیمرے-مائک لے کر کھڑے صحافیوں کے پاس آئے اور اپنے من کی کہہ کر چلتے بنے۔ نہ کسی نے سوال پوچھا، اور نہ کوئی جواب دیا گیا۔
لیکن اسی دن ایک بڑے خبریہ چینل کی چمک دمک اور تام جھام سے لبریز پی ایم کا ایک انٹرویو ضرور شام کو آیا۔ جب چینل نے اس انٹرویو کے پرومو چلانے شروع کیے تو لگا کہ کچھ تو ڈائیلاگ ہوگا، آخر تین تین اینکر پی ایم سے سوال پوچھنے والے تھے، لیکن ڈائیلاگ اب تک آئے، باقی انٹرویو کی طرح ہی پہلے سے طے سوالوں کو پوچھنے اور ان کے سنے سنائے جوابوں تک ہی محدود رہ گیا۔
اس انٹرویو کے دوران پی ایم نے کہا کہ وہ اپنی ریلی میں جو بھی تقریر کرتے ہیں تو اس میں کسان اور روزگار کے ایشوز پر زیادہ اور نیشنلزم وغیرہ پر کم بولتے ہیں۔ لیکن سوال ہے کہ آخر پی ایم کی یہ باتیں کوئی سن کیوں نہیں رہا ہے؟ اصل دھارے کی میڈیا انھیں ہی کی کیوں سرخیاں نہیں بنا رہا ہے؟ کیوں اگلے دن کے اخبار اور اس دن کے پرائم ٹائم صرف پلوامہ اور بالاکوٹ، دہشت گردی، نیشنلزم جیسی باتیں دکھاتے ہیں؟