تین طلاق پر حکومت کا حلف نامہ یکساں سول کوڈ کی جانب پہلا قدم : مولانا ارشد مدنی

04:22PM Sun 9 Oct, 2016

ممبئی ۔ جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کا خفیہ ایجنڈہ اب کھل کر سامنے آنے لگا ہے اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار کرنے کے لئے حکومت نے ملک کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کے پرسنل لا ء میں مداخلت کرتے ہوئے تین طلاق اور تعدد ازدواج کے خلاف اپنی رائے ظاہر کی ہے ۔ انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ ملک میں آزادی کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مرکزی حکومت نے مسلم پرسنل لا ء کے خلاف اتنا جارحانہ رخ اختیار کیا ہے ۔ جمعیۃ علما ہند کے صدر نے آج اس معاملے میں اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تین طلاق اور تعدد ازدواج کے تعلق سے سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت کے ذریعے پیش کی گئی رائے ناقابل قبول ہے اور جمعیۃ علما ء ہند اس کی نہ صرف سخت مذمت کرتی ہے بلکہ اسے خارج کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کے لئے قرآن اور حدیث ہی سب سے بڑا دستور ہے اور مذہبی امور میں شریعت ہی قابل تقلید ہے جس میں تا قیامت کوئی ترمیم ممکن نہیں اور سماجی اصلاحات کے نام پر شریعت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی ۔ واضح ہو کہ مودی سرکار کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش اس حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ ’’پرسنل لا ء کی بنیاد پر مسلم خواتین کے آئینی حقوق نہیں چھینے جا سکتے اور اس سیکولر ملک میں تین طلاق کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔‘‘ مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علما ہند بطورفریق سپریم کورٹ میں اپنا موقف واضح کر چکی ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی امور قرأن اور حدیث کی بنیاد پر طے ہو تے ہیں اورسماجی اصلاحات کے لئے شریعت کو دوبارہ نہیں لکھا جا سکتا اور نہ ہی رہتی دنیا تک اس میں کوئی ترمیم ہی ممکن ہے۔ مذہب کے معاملے میں مسلمانوں کے لئے قرآن اور حدیث کے علاوہ اور کوئی دستور نہیں ہے۔ جمعیۃ بطور فریق اس بات کوایک بار پھر سپریم کورٹ کے سامنے رکھے گی ۔