دہلی کے مسلمانوں کا اہم مسئلہ حل کرنے کے لئے اکھلیش یادوکا قدم قابل ستائش : مولانا ارشد مدنی
03:31PM Tue 27 Dec, 2016
نئی دہلی۔ دہلی کے اوکھلا علاقہ کے لاکھوں مسلمانوں کی ضرورت اورپریشانی کوسمجھتے ہوئے وزیر اعلیٰ اترپردیش اکھلیش یادو کے ذریعہ اوکھلا علاقہ کے ابوالفضل انکلیواور شاہین باغ کے درمیان واقع محکمہ آبپاشی و آبی وسائل اتر پردیش کی زمین میں سے تین ایکڑ زمین قبرستان کے لئے الاٹ کئے جانے کا لیٹر جمعیۃ علما ء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کوبھیجے جانے کے بعد 27؍دسمبر2016ء کو مذکورہ زمین جمعیۃ علما ء ہند کے سپرد بھی کر دی گئی ۔ وزیر اعلیٰ کے اس اقدام پر جمعیۃ ٖ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علما ہند کی درخواست پر ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے یہ اہم فیصلہ کیا جس سے اوکھلا اور ارد گرد کے لاکھوں مسلمانوں کو فائدہ پہنچے گا اور انہیں راحت ملے گی ۔ واضح ہو کہ اتر پردیش کابینہ کی میٹنگ میں گذشتہ ہفتہ اوکھلا ( دہلی )کے لئے قبرستان کی جگہ الاٹ کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی گئی تھی اور اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے ا س تعلق سے متعلقہ افسران کو تمام ضروری کارروائی فوری طور سے مکمل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی تھیں ۔
ا سکے بعد ایکزیکیٹیو انجینئر ہیڈ ورکس ڈویژن آگرہ نہر اوکھلا راجیشور سنگھ یادو نے جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کے نام گذشتہ روز ایک خط( 5428/26/12/2016 ) بھیج کر انہیں جمعیۃ علما ہند کے وزیر اعلیٰ اتر پردیش کو لکھے خط( JUH/LTR/2015/205-DT-17-12-2015)کے حوالے سے اتر پردیش کابینہ میں منظور کی گئی تجویز کے حکم نامہ لیٹر (33/1888/16-27c-3-108l/13-dt20-12-2016)کی اطلاع دی اور بتایا کہ گاؤں جسولہ خسرہ نمبر318ضلع جنوب مشرقی دہلی واقع محکمہ آبپاشی اور آبی وسائل اتر پردیش کی زمین میں سے تین ایکڑ زمین کا ڈیمارکیشن کر دیا گیا ہے جو آپ کی تنظیم ( جمعیۃ علما ہند )کوقبرستان کے استعمال کے لئے مفت فراہم کرائی جا رہی ہے ۔ جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بہت جلد ایک انتظامی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو اس قبرستان کے امور کو انجام دے گی ۔ اوکھلا کی عوام کے لئے قبرستان الاٹ کئے جانے اور جمعیۃ علما ہند کواس کی پزیشن دینے کے لئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سیدارشد مدنی نے وزیر اعلیٰ اترپردیش اکھلیش یادو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے دہلی کے اوکھلا علاقہ کے مسلمانوں کی اس شدید ضرورت اور پریشانی کو محسوس کرکے پوری سنجیدگی اور دیانتداری کے ساتھ یہ اہم فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے لئے ہم اتر پردیش سرکار اور اکھلیش یادوکو جمعیۃ علما ہند اور اوکھلا کے تمام مسلمانوں کی جانب سے مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔ مولانامدنی نے کہا کہ تقریباً چار سال قبل اوکھلا کے کافی لوگ میرے پاس آئے تھے اور آبادی کے لحاظ سے قبرستان نہ ہونے اور پرانے قبرستانوں میں جگہ نہ ہونے کے سبب کئی کلومیٹر دور جا کر اپنے مردوں کی تدفین کرنے کی پریشانی بیان کی تھی اور درخواست کی تھی کہ اتر پردیش سرکار سے شاہین باغ اور ابوالفضل انکلیوکے درمیان اتر پردیش کے محکمہ آبپاشی کی خالی پڑی اراضی کو قبرستان کے لئے الاٹ کئے جانے کی درخواست کی جائے ۔
مولانا مدنی نے مزید بتایا کہ اس کے بعد ہم نے متعلقہ افسران کو مکتوب لکھنے کے علاوہ وزیر اعلیٰ اترپردیش کومتعدد خطوط بھیجے اور ان سے ذاتی طور پر بھی ملاقات کر کے تما م صورتحال بیان کی۔ ہم نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ اگر مشرقی دہلی کے اوکھلا علاقہ میں اتر پردیش سرکار کی جگہ کو مسلمانوں کے قبرستان کے لئے الاٹ کر دیا جائے تو انہیں کافی راحت مل جائے گی ۔ اس وقت اکھلیش یادوجی نے مثبت رویہ اختیار کرتے ہوئے ا س سلسلے میں جلد قد م اٹھانے کی یقین دہانی کرائی تھی ۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ نے واقعی اس معاملے کوبہت سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنے وعدے کوپورا کر دیا۔