بی بی سی کی پیش کار سوفی راورتھ نے کہا کہ انھوں نے ایک عورت کو سٹریچر پر لیٹے دیکھا جس کے چہرے اور ٹانگوں پر جلنے کے نشانات تھے۔
24 سالہ ایلیکس لٹل فیلڈ نے کہا: 'میں پارسنز گرین ٹیوب سٹیشن کے قریب ہی تھا کہ لوگوں کو انتشار کے عالم میں پلیٹ فارم پر بھاگتے دیکھا۔ میں نے پولیس اہلکار اور فائر بریگیڈ والے دیکھے جو لوگوں کو پیچھے ہٹا رہے تھے۔
'میں نے لوگوں کا ہجوم اور مسلح پولیس والے دیکھے۔ بہت سے لوگ صدمے سے دوچار تھے۔'
میڈیا ٹیکنالوجی رچرڈ آئلمار ہال نے کہا کہ انھوں نے کئی لوگوں کو زخمی حالت میں دیکھا جنھیں بظاہر بھاگتے ہوئے لوگوں نے روند ڈالا تھا۔
انھوں نے کہا: ’پلیٹ فارم پر ایک عورت نے بتایا کہ انھوں نے ایک تھیلا دیکھا جس میں جھماکہ ہوا اور اس کے بعد دھماکہ۔‘
لندن میں زیرِ زمین ٹرین میں دھماکے سے متعدد افراد زخمی
11:42AM Fri 15 Sep, 2017
لندن کے علاقے فلہم میں زیرِ زمین ٹرین میں ہونے والے ایک دھماکے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں اور سکاٹ لینڈ یارڈ نے کہا ہے کہ اس واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ دھماکہ جمعے کی صبح جنوب مغربی لندن میں پارسنز گرین کے سٹیشن پر موجود ڈسٹرکٹ لائن کی ایک ٹرین پر ہوا ہے۔ بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر نے کہا ہے کہ کاؤنٹر ٹیرورزم کمانڈ حرکت میں آ گئی ہے اور وہ کارروائیوں کی قیادت کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ دھماکہ کیسے ہوا۔ پولیس اور طبی کارکنوں کے مطابق انھیں صبح آٹھ بج کر 20 منٹ پر پارسنز گرین سٹیشن پر طلب کیا گیا اور لندن ایمبولینس سروس کے مطابق 18 افراد کو جائے وقوعہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ان میں سے کسی کی بھی حالت تشویشناک نہیں تھی۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ایک تصویر میں ٹرین کے فرش پر شاپنگ بیگ کے اندر ایک سفید بالٹی میں لگی آگ دیکھی جا سکتی ہے، تاہم بظاہر ریل کے ڈبے کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔ لندن میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال وہ یہ نہیں بتا سکتی کہ آگ کس وجہ سے لگی۔ عینی شاہدین نے کہا ہے کہ انھوں نے کم از کم ایک مسافر کے چہرے پر زخم دیکھے ہیں جبکہ واقعے کے بعد لوگوں کو افراتفری کے عالم میں ٹرین سے اترتے بھی دیکھا گیا ہے۔ اس ٹرین کے ایک مسافر کرس ولڈش نے بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کو بتایا کہ انھوں نے ایک بالٹی دیکھی جس سے کچھ شعلے بلند ہو رہے تھے اور وہ بوگی کے پچھلی طرف دروازے کے قریب پڑی تھی۔ ایک اور مسافر لیوک کا کہنا تھا کہ 'دھماکہ زوردار تھا اور اس وقت ہوا جب ٹرین سٹیشن پر رک رہی تھی۔ جلنے کی واضح بو تھی اور لوگ باہر نکلنے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھ رہے تھے۔' بی بی سی کی لندن کی نامہ نگار رز لطیف اس وقت پارسنز گرین سٹیشن پر موجود تھیں۔ انھوں نے کہا: 'جب لوگوں نے دھماکے کی آواز سنی تو وہ افراتفری کے عالم میں ٹرین سے دور بھاگے۔ 'وہاں سے بھاگتے ہوئے لوگوں کو خراشیں اور چوٹیں آئی ہیں۔ بہت زیادہ افراتفری کا عالم تھا۔' بشکریہ: بی بی سی اردو