تین طلاق سے متعلق بل شریعت کے خلاف اور مسلم پرسنل لا میں کھلی مداخلت : مسلم پرسنل لا بورڈ

12:37PM Sun 24 Dec, 2017

لکھنو : تین طلاق سے متعلق مودی حکومت کے بل کو لے کر اتوار کو لکھنو میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی ایک ہنگامی میٹنگ منعقد کی گئی ۔ میٹنگ کے بعد بورڈ کے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجود قانون ہی کافی تھا ۔ ساتھ ہی ساتھ بورڈ نے بل کو سپریم کورٹ کے دئے گئے فیصلہ کی روح کے بھی خلاف قرار دیا ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ بل مسلم خواتین کے خلاف ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بل شریعت کے خلاف اور مسلم پرسنل میں کھلی مداخلت بھی ہے۔ ہنگامی میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی نے کہا کہ اس بل کو تیار کرنے میں کسی بھی طریقہ کار پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔ حکومت نے بل سے متعلق کسی بھی فریق سے بات چیت نہیں کی ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے موقف سے جلد ہی وزیر اعظم مودی کو واقف کرادے گا اور اس نے درخواست کرے گا کہ وہ اس بل کو واپس لیں۔
 لکھنو کے ندوۃ العلما میں منعقدہ بورڈ کی ہنگامی میٹنگ کے صدارت مولانا رابع حسنی ندوی نے ۔ میٹنگ میں بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی کے علاوہ سیکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی ، مولانا فضل الرحیم اور مولاناسلمان حسینی ندوی وغیرہ نے شرکت کی ۔ میٹنگ میں ورکنگ کمیٹی کے 51 ممبران کو بلایا گیا تھا ۔ اس میٹنگ میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بھی شرکت کی۔