رام مندرتعمیرکیلئے قانون پارلیمان کے سرمائی اجلاس میں پاس ہوگا بھارتیہ جنتاپارٹی کے ایم پی کا دعویٰ! 16نومبرکو ہی جاری ہوچکا ہے وھپ
12:08PM Mon 19 Nov, 2018
نئی دہلی۔19نومبر(آئی این ایس)بی جے پی لیڈر رویندر کشواہا نے اگلے ماہ شروع ہو رہے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے قانون منظور ہو جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لئے مرکز کی نریندر مودی حکومت نے سیشن کے دوران اپنے تمام ممبران پارلیمنٹ کو دہلی سے باہرنہ جانے کا حکم دیا ہے۔سلیم پور سیٹ سے ایم پی کشواہا نے کل بلتھرا روڈ علاقے میں ’کمل سندیش یاترا‘کے موقع پر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آئندہ11دسمبر کو شروع ہونے والے پارلیمنٹ سیشن میں رام مندر کی تعمیر کا قانون منظور کیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی حکومت نے16نومبرکوہی وہپ جاری کرکے اپنے تمام ارکان کو ہدایت دی ہے کہ وہ پارلیمنٹ سیشن کے دوران دہلی سے باہر نہ نکلیں۔کشواہا نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے فیصلہ کیا ہے کہ موسم سرما کے سیشن میں رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون منظور کرالیاجائے۔مودی سردار پٹیل کو اپنا گرو مانتے ہیں۔پٹیل نے جس طرح سے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی ہچکچاہٹ کے باوجود پارلیمنٹ سے سومناتھ مندر کی تعمیر نو کا قانون بنوایاتھا، اسی طرح مودی بھی رام مندر کے لئے قانون بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب پارلیمنٹ میں رام مندر کے قانون پر تبادلہ خیال ہوگا تو کانگریس کے صدر راہل گاندھی کی اصلیت کابھی پتہ چل جائے گاکہ وہ کتنے بڑے جنیودھاری اورشیوبھکت ہیں۔کشواہا نے رافیل طیارے خریداری کو لے کر مودی حکومت پر مسلسل حملے کر رہے راہل پر الزام لگایا کہ سیاست میں ناکام ہونے کے بعد راہل عوام کو گمراہ کرنے اور پاکستان اور چین سے اطلاعات شیئر کرنے کے لئے رافیل کا فرضی معاملہ اٹھا رہے ہیں۔دوسری جانب یوگا گرو بابا رام دیونے رام مندر کے بارے میں متنازع بیان دیا ہے۔بابا رام دیو نے کہا ہے کہ مندر کی تعمیر کورٹ سے نہیں بلکہ پارلیمنٹ سے ہوگی۔سوامی رام دیو نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر کا راستہ پارلیمنٹ سے صاف ہو گا۔ہریدوارمیں شہری اکائیوں کے لئے منعقد ہونے والے انتخابات میں اپنا ووٹ ڈالنے کے لئے آئے رام دیونے اعظم نریندر مودی کو ایک سچا رام بھکت بتایا۔اس دوران بابا رام دیو کے ساتھ ان کے ساتھی بال کرشن بھی موجود تھے۔بابا نے کہا کہ پارلیمان پر رام مندر کی تعمیر کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔یوگا گرو نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ اور عدالت نے رام مندر نہیں بنایا تو ملک میں بغاوت ہوسکتی ہے۔اس سے پہلے وارانسی میں بھی رام دیو نے کہا تھا کہ اگر رام مندر نہیں بنا تو ملک میں فرقہ وارانہ ماحول خراب ہوگا اور اس سے سماجی تعصب پیدا ہوگا۔بابا رام دیو نے کہا تھا کہ رام مندر کے معاملے پر ابھی نہیں توکبھی نہیں کے تصور پر کام کرنا پڑے گا۔ورانسی میں بابا رام دیو نے رام مندر کی پیروی کرتے ہوئے کہا تھا کہ رام مندرکا مسئلہ سمجھوتے کے دورسے نکل چکاہے، اب پارلیمنٹ میں قانون لاؤ اور مندر بنانے کے قانون پر کام کرنا ہوگا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان اور سابق مرکزی وزیر شاہنواز حسین نے آج کہاکہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر سے متعلق تنازع کو منسلک فریق کے درمیان بات چیت، عدالت کے حکم کو قبول کرکے یا قانون بناکرحل کیا جاسکتا ہے ۔حسین نے یہاں صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ معاملہ کانگریس کی طرف سے الجھایا گیا ہے اور ہم لوگ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں انتظار کرنا چاہئے ۔ رام مندر سے متعلق سوالات پر، انہوں نے سنبھل کر جواب دیا۔رافیل معاہدے پر حزب اختلاف کے الزامات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں، حسین نے کہا کہ حزب اختلاف اس معاملے میں گمراہ کر رہے ہیں۔معاہدے میں شامل داسو نے بھی اپوزیشن کے الزامات کے بارے میں سچ کو اجاگر کرکے ایک طرح سے اس موضوع پر لگام لگادیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے میں عدالت میں جانے کے لئے حزب اختلاف آزاد ہے ۔مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کے اعلیٰ افسروں سے متعلق تنازعہ کے بارے میں پوچھے جانے پر حسین نے کہا کہ وہ اس سے آگاہ نہیں ہیں۔ نوٹ کی منسوخی، اشیاء اور سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) پر حزب اختلاف کی طرف سے گھیرے جانے کے سوال کے جواب میں حسین نے کہا کہ مرکزی حکومت کے یہ دونوں فیصلے عوامی مفاد میں کئے گئے ہیں ۔ ان کا عوام کو براہ راست فائدہ پہنچاہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رائے شماری میں کوئی مخالفت نہیں ہے ۔مدھیہ پردیش اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کی طرف سے واحد اقلیت کو ٹکٹ دینے کے معاملہ میں، انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے امیدوار میرٹ کی بنیاد پر طے کئے جاتے ہیں۔