سپریم کورٹ میں حکومت نے کہا : وزارت دفاع سے چوری ہوئے رافیل ڈیل کے دستاویز ، کورٹ کو نہیں دکھا سکتے
03:39PM Wed 6 Mar, 2019
Share:
رافیل معاملہ میں نظر ثانی کی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہورہی ہے ۔ اس دوران حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے عدالت کو بتایا کہ جن دستاویز پر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن بھروسہ کررہے ہیں ، وہ وزارت دفاع سے چوری کئے گئے ہیں ۔ وہیں چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ رافیل ڈیل سے وابستہ دستاویز کے چوری ہونے پر حکومت کی طرف سے کیا کارروائی کی گئی ہے ؟ ۔
اس سے پہلے وینو گوپال نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ عرضی گزار پرشانت بھوشن اور دیگر لوگ چوری ہوچکے دستاویز پر بھروسہ کررہے ہیں ۔ وزارت دفاع سے چوری ہوئے دستاویز کا معاملہ اتنا سنگین ہے کہ انہیں رازداری ایکٹ کے تحت مقدمہ کا سامنا کرنے پڑے گا ۔ سپریم کورٹ میں جانکاری دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم اس معاملہ میں کریمنل ایکشن لیں گے ۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ اس معاملہ پر ہم کسی نئے دستاویز پر سماعت نہیں کریں گے ۔ دراصل سماعت شروع ہوتے ہی وکیل پرشانت کشور نے سپریم کورٹ میں نئے دستاویز پیش کئے ، جس پر سپریم کورٹ نے سماعت کرنے سے انکار کردیا ۔
اس درمیان کانگریس نے پریس کانفرنس کرکے مودی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت کی چوری پکڑی گئی ہے ۔ واضح ہوگیا ہے کہ رافیل ڈیل پر دساں ایوی ایشن کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ رافیل ڈیل کیلئے حکومت نے زیادہ قیمت ادا کی ہے ۔