دبئی کی امارات ائیرلائنز ( ایمریٹس) نے بدھ سے امریکا جانے والی پروازوں میں سوار پریمیم مسافروں کو ٹیبلٹ کمپیوٹرز دینا شروع کردیے ہیں۔اس نے یہ اقدام امریکا کی جانب سے معیاری اسمارٹ فون سے بڑے برقی آلات پروازوں میں لے جانے پر عاید پابندی کا توڑ کرنے کے لیے کیا ہے۔ امارات ائیرلائنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد طیارے کے اندر برقی آلات لے جانے پر عاید پابندی سے پیدا ہونے والی ناخوش گوار صورت حال کا ازالہ کرنا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’طیاروں میں فرسٹ اور بزنس کلاس کے مسافر اب ٹیبلیٹس کرائے پر لے سکتے ہیں۔ وہ اس میں اپنی یو ایس بی لگاکر کسی رکاوٹ کے بغیر اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں‘‘۔ امارات نے پہلے ہی امریکا جانے والے مسافروں کو پرواز کے دوران میں طیارے میں لیپ ٹاپس اور ٹیبلٹس استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ان سے طیارے سے اترتے وقت یہ آلات واپس لے لیے جاتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے گذشتہ ماہ دس ہوائی اڈوں سے براہ راست امریکا جانے والی پروازوں کے مسافروں پر موبائل فون سے بڑی الیکٹرانک ڈیوائسز لے جانے پر پابندی عاید کردی تھی۔ان میں سات ہوائی اڈے مشرقِ وسطیٰ اور ترکی میں واقع ہیں۔برطانیہ نے بھی اسی قسم کی پابندی عاید کردی تھی البتہ اس نے خلیج کی بعض فضائی کمپنیوں کو اس سے مستثنا قرار دے دیا تھا۔ امریکا کی پابندی سے متاثر ہونے والی خلیج کی دوسری فضائی کمپنیوں نے بھی اسی قسم کے اقدامات کیے ہیں۔ قطر ائیرویز نے گذشتہ ہفتے بزنس کلاس کے مسافروں کو مفت لیپ ٹاپس مہیا کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ ابوظبی کی اتحاد ائیرلائنز نے اعلیٰ درجوں میں سفر کرنے والے مسافروں کو مفت وائی فائی اور ٹیبلٹ کمپیوٹرز دینے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا مقصد طیاروں میں ممکنہ حملوں کو روکنا ہے۔ یہ حملے عام استعمال کے برقی آلات میں چھپا کر لے جائی جانے والی دھماکا خیز ڈیوائسز سے کیے جاسکتے ہیں۔