وی کے عبیداﷲ سرکاری اسکول کا اہم شخصیات نے معائنہ کیا

02:13PM Sun 9 Jul, 2017

تعلیمی اعتبار سے کرناٹک ، تلنگانہ اور آندھرا ملک کی دیگر ریاستوں سے آگے: زاہد علی خان بنگلورو۔ جولائی(بھٹکلیس نیوز) شہر کے شیواجی نگر علاقہ میں واقع سرکاری وی کے عبیداﷲ اسکول کی صد سالہ تقریبات کے سلسلہ میں آج شہر میں منعقد کل ہند مشاعرہ اور جلسہ میں شرکت کیلئے آمد کے بعد راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد ، سابق مرکزی وزیر سبودھ کانت سہائے ، روزنامہ سیاست کے مدیر جناب زاہد علی خان ، ہفت روزہ نئی دنیا کے مدیر شاہد صدیقی اور مدعو شعرائے کرام کی ٹیم نے وی کے عبیداﷲ اسکول کی نئی عمارت اور یہاں پر دستیاب سہولیات کا مشاہدہ کیا اور اس عمارت کو ملک بھر کے تعلیمی اداروں کیلئے ایک مثال قرار دیتے ہوئے یہ رائے ظاہر کی کہ اس طرح کی سہولتیں اگر ملک بھر میں اور خاص طور پر مسلم طلبا کو میسر آجائیں تو ملت میں تعلیمی پسماندگی کو سرے سے مٹایا جاسکے گا۔ اسکول کا معائنہ کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے جناب غلام نبی آزاد نے کہاکہ ایک سرکاری اسکول کی اس طرح ترقی اور پرشکوہ عمارت سارے ملک کیلئے ایک قابل تقلید ماڈل ہے۔ پہلی بار ایک سرکاری اسکول کو انہوں نے پوری سہولیات سے لیس دیکھا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور عمدہ سہولیات سے آراستہ اسکول کارپوریٹ اداروں کی طرف سے اپنی سماجی ذمہ داریوں کی تکمیل کیلئے ایک بہترین مثال ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے سرکردہ سیاسی رہنما جناب روشن بیگ نے اپنے مادر علمی کا حق جس طرح سے ادا کیا ہے وہ دوسرے قائدین کیلئے قابل تقلید قدم ہے۔اس شاندار عمارت کی تعمیر کیلئے انہوں نے جناب روشن بیگ اور آئی ایم اے کے منیجنگ ڈائرکٹر محمد منصور خان کو مبارکباد دی، اور کہاکہ اس طرح کے ماڈلس ملک بھر میں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے آئی ایم اے کے ذمہ داروں کو مشورہ دیا کہ اپنی خدمات کو محدود نہ رکھیں ،بلکہ قومی پیمانے پر انہیں وسیع تر کریں۔ اس کیلئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے جو بھی مدد درکار ہو وہ فراہم کرانے کیلئے تیار ہیں۔ غلام نبی آزاد نے کہاکہ ملک کی ہر ریاست میں بھی اگر اس طرح کا ایک ایک ماڈل تیار ہوجائے تو یہ دوسروں کیلئے نمونۂ عمل ثابت ہوگا۔زاہد علی خان:اس موقع پر اسکول کی عمارت کے متعلق اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روز نامہ سیاست نے کہاکہ کرناٹک اور آندھرا اور تلنگانہ کے علاقے تعلیمی میدان میں ترقی کے اعتبار سے ملک کے دیگر حصوں سے کافی آگے ہیں۔آج ان علاقوں میں میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر کالجوں کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن بنیادی سطح پر بہترین سہولیات سے لیس تعلیمی مراکز کی کمی کافی عرصہ سے محسوس کی جاتی رہی ہے۔ بنگلور میں جناب روشن بیگ کی کاوشوں اور آئی ایم اے کے ذمہ داروں کے صرفہ سے بنیادی تعلیم سے بچوں کو آراستہ کرنے کیلئے وی کے عبیداﷲ سرکاری اسکول کی شاندار عمارت کی تعمیر یقیناًقابل تعریف ہے۔انہوں نے کہاکہ ہر صاحب استطاعت کو چاہئے کہ سرکاری اسکولوں کو اپنا کر یہاں پر تعلیم کا انتظام کرنے میں حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمارے بچوں کو عصری تقاضوں کے مطابق تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔ تمام اسکولوں میں ہماری مادری زبان اردو کی تدریس وتعلیم لازمی قرار دی جائے۔ تعلیم بھلے ہی انگلش یا علاقائی زبانوں کے میڈیم میں ہو، لیکن لازمی طور پر اگر اردو پڑھائی جائے تو بچہ ہماری تہذیب وتمدن سے جڑا رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ کانونٹوں میں تعلیم دلانے کو باعث فخر سمجھنے والے والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو مادری زبان سے وابستگی کی فکر کریں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ میں 250 اقلیتی اسکولوں کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا ہے، تاکہ ان اسکولوں میں بچوں کو انگلش میڈیم تعلیم دی جائے اور ساتھ ہی مادر ی زبان کی تعلیم لازمی طور پر ہو۔ اس سے بچوں کو دیگر کانونٹوں کے بچوں سے شانہ بشانہ مسابقت کا حوصلہ ملے گا۔صرف ایک زبان میں تعلیم اکثر بچوں میں احساس کمتری کا سبب بنتی ہے۔ سبودھ کانت سہائے: سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریس لیڈر سبودھ کانت سہائے نے آئی ایم اے وی کے عبید اﷲ سرکاری اسکول کی عمارت کا مشاہدہ کرکے اپنی بے انتہا حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ اپنی چالیس سالہ سیاسی زندگی میں کبھی کوئی سرکاری اسکول کی عمارت انہوں نے اتنی عالیشان نہیں دیکھی۔ اس عمارت کو انہوں نے ملک بھر کیلئے ایک ماڈل قرار دیا اور کہاکہ ملک کی ہر ریاست میں اگر ایسا ایک بھی اسکول تعمیر ہوجائے تو اس علاقہ کے بچوں کی تعلیمی پسماندگی ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہاکہ سرمایہ دار اداروں اور اصحاب حیثیت کو چاہئے کہ اس کاوش کو اپنے لئے ذریعۂ تقلید مان کر کارپوریٹ سوشیل ریسپانسبلٹی کے تحت سرکاری تعلیمی اداروں کی ترقی وترویج کی طرح متوجہ ہوں۔ انہوں نے کہاکہ اس اسکول کی تعمیر کیلئے تین اسباب کارفرما ہیں۔ایک ریاستی حکومت کی طرف سے تعاون اور کارپوریٹ اداروں کو سرکاری اسکول کی تعمیر میں پہل کیلئے حوصلہ افزائی ، دوسرا مقامی رکن اسمبلی اور وزیر شہری ترقیات وحج جناب روشن بیگ کی اس اسکول کی تعمیر کے تئیں گہری دلچسپی اور خصوصی توجہ ، تیسرا آئی ایم اے گروپ کی طرف سے اس اسکول کو گود لینے اور اسے اس معیار تک لے جانے کی کامیاب کوشش، جس کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ ان تینوں کا امتزاج نہ ہوتا توشاید آج اس طرح کی عمارت کبھی تعمیر نہ ہوتی۔شاہد صدیقی: معروف ہفتہ وار اخبار نئی دنیا ، نئی دہلی کے مدیر اور سابق رکن راجیہ سبھا شاہد صدیقی نے آئی ایم اے وی کے عبید اﷲ سرکاری اسکول کی عمارت کو عالیشان قرار دیتے ہوئے اس کیلئے جناب روشن بیگ اور محمد منصور خان کو مبارکباد دی اور کہاکہ یہ عمارت سارے ملک کیلئے ایک ماڈل ہے۔ شاہد صدیقی نے جو مولانا آزاد فاؤنڈیشن کی طرف سے ملک بھر میں اسکولوں کی تعمیر کیلئے قائم کمیٹی کے ممبر بھی ہیں ، کہاکہ فاؤنڈیشن کے ذریعہ انگریزی میڈیم میں تعلیم مادری زبان کے ساتھ دینے کیلئے ملک بھر میں 220 اسکولوں کی تعمیر کا منصوبہ مرتب کیا گیا ہے۔ ان اسکولوں کی تعمیر کیلئے وہ کمیٹی کے روبرو وی کے عبیداﷲ سرکاری اسکول کا ماڈل یقیناًپیش کریں گے۔ مولانا مقصود عمران رشادی:جامع مسجد بنگلور سٹی کے خطیب وامام مولانا مقصود عمران رشادی نے جناب روشن بیگ کی طرف سے اپنی مادر علمی کو تمام تر سہولیات سے لیس کرنے کیلئے کی گئی کاوش اور اسے جامہ حقیقت سے آراستہ کرنے کیلئے آئی ایم اے ا ور محمد منصور خان کی پرخلوص دلچسپی کو قابل مبارکباد قرار دیا اور کہاکہ ملت میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے اس طرح کی پہل کافی شدت سے محسوس کی جارہی تھی۔ محمد منصور خان:آئی ایم اے کے منیجنگ ڈائرکٹر محمد منصور خان نے اس موقع پر بتایا کہ رواں سال اس اسکول میں پرائمری اور ہائی اسکول کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے اسکول میں داخلہ کیلئے 7900سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے 1500 سے زائد بچوں کو داخلہ دیا جاچکا ہے اور ان کا تعلیمی سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس عمارت میں پی یو سی کالج کی شروعات کیلئے منظوری حاصل کرلی گئی ہے اور 2018-19 کے تعلیمی سال سے یہاں پی یو سی کا سلسلہ بھی شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ آج اس عمارت کا مشاہدہ کرکے ملک کی ممتاز شخصیتوں نے جن تاثرات کا اظہار کیا ہے انہیں دیکھتے ہوئے آئی ایم اے نے محسوس کیا ہے کہ اس کی ذمہ داری اور بڑھ چکی ہے۔ ملک کے دیگر حصوں میں بھی اس طرح عمارتوں کی تعمیر کیلئے مشاورت اور رہنمائی کی ضرورت جہاں بھی پڑے گی آئی ایم اے مہیا کرانے تیا ر ہے۔ جہاں سے بھی اس سلسلے میں پہل کی جائے گی آئی ایم اے اس سلسلے میں اپنی مہارت مہیا کرانے ہمہ وقت تیار ہے۔ جناب غلام نبی آزاد کے اس مشورہ پر کہ ملک کے دیگر ریاستوں میں بھی اس طرح کے ماڈل قائم کئے جائیں ، محمد منصور خان نے کہاکہ وہاں کے اداروں اور کارپوریٹ کمپنیوں کی طرف سے اگر رہنمائی کیلئے آئی ایم اے کو آواز دی جائے تو آئی ایم اے رہنمائی کیلئے ہمہ وقت تیار رہے گی۔اس موقع پر معروف شعرائے کرام انور جلال پوری، لتا حیا، دپتی مشرا ، عمران پرتاپ گڑھی ، شکیل اعظمی اور دیگر نے بھی اسکول کا مشاہدہ کیا اور یہاں کی سہولیات کو بے مثال قرار دیتے ہوئے کہاکہ ملک کے کسی بھی سرکاری اسکول میں اس طرح کی سہولیات شاید ہی دستیاب ہوں گی۔ اس موقع پر عزیز اﷲ بیگ سابق چیرمین اردو اکاڈمی، پروفیسر م ن سعید اور دیگر عمائدین موجود تھے۔