وسطی میانمار میں بودھ انتہا پسندوں نے مسجد میں توڑپھوڑ کی ، حالات ناگفتہ بہ ، مسلمان نقل مکانی پر مجبور

05:13PM Sat 25 Jun, 2016

ینگون : میانمار کے وسطی علاقے میں انتہا پسندوں نے ایک مسجد کو نقصان پہنچایا ہے ، جس کے بعد وہاں ماحول فرقہ وارانہ طور پر کشیدہ بتا یا جا تا ہے۔ یہ واقعہ صوبہ باگو کے مسلم اکثریتی گاؤں میں پیش آیا جہاں بودھ مت مبینہ انتہا پسند وں نے ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی جس کے بعد علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔

خبروں کے مطابق قبل ازیں اسی ہفتے بھی ایک مشتعل ہجوم نے ایک مدرسہ قائم کرنے پر بھی دھاوا بول دیا تھا ۔ مقامی پولیس سربراہ اون لوین کے حوالے سے آن لائن میڈیا نے خبر دی ہے کہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے جس کی وجہ سے پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ مسجد کے سیکریٹری ون شوے کا ایک بیان یوں نقل کیا گیا ہے کہ معاملہ ٹھنڈا ہونے تک متاثرہ علاقے کے اقلیتی فرقے کے لوگ کسی اور علاقے میں منتقل ہونے پر غور کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ میانمار بھر میں بودھ مت کے ماننے والوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز جذبات پائے جاتے ہیں اور ماضی میں بھی سیکڑوں مسلمان ہلاک کئے جاچکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے خطرناک صورتحال مغربی ریاست راخائن میں ہے ، جہاں لاکھوں روہنگیا مسلمان ہنگاموں کے بعد اب بھی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بودھ مت کے ماننے والے شدت پسند روہنگیا مسلمانوں کو اقلیت تسلیم کرنے کے سخت مخالف ہیں اور انہیں بنگلہ دیش سے غیر قانونی طریقے سے آنے والے 'بنگالی کہتے ہیں۔ میانمار سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کو بھی روہنگیا مسلمانوں کے لیے آواز نہ اٹھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سوچی دہائیوں بعد قائم ہونے والی سویلین حکومت کی سربراہ بھی ہیں اور انہوں نے مذہبی برادریوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے تھوڑا وقت مانگا ہے۔ رواں ماہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کو 'انسانیت سوز جرائم قرار دیا جاسکتا ہے۔