خیال رہے کہ میانمار بھر میں بودھ مت کے ماننے والوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز جذبات پائے جاتے ہیں اور ماضی میں بھی سیکڑوں مسلمان ہلاک کئے جاچکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے خطرناک صورتحال مغربی ریاست راخائن میں ہے ، جہاں لاکھوں روہنگیا مسلمان ہنگاموں کے بعد اب بھی خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بودھ مت کے ماننے والے شدت پسند روہنگیا مسلمانوں کو اقلیت تسلیم کرنے کے سخت مخالف ہیں اور انہیں بنگلہ دیش سے غیر قانونی طریقے سے آنے والے 'بنگالی کہتے ہیں۔
میانمار سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کو بھی روہنگیا مسلمانوں کے لیے آواز نہ اٹھانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سوچی دہائیوں بعد قائم ہونے والی سویلین حکومت کی سربراہ بھی ہیں اور انہوں نے مذہبی برادریوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے تھوڑا وقت مانگا ہے۔ رواں ماہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کو 'انسانیت سوز جرائم قرار دیا جاسکتا ہے۔
وسطی میانمار میں بودھ انتہا پسندوں نے مسجد میں توڑپھوڑ کی ، حالات ناگفتہ بہ ، مسلمان نقل مکانی پر مجبور
05:13PM Sat 25 Jun, 2016