کرناٹک اسمبلی انتخابات میں ایم آئی ایم اور ایم ای پی کی شرکت بنی بحث کا موضوع

03:32PM Fri 16 Feb, 2018

بنگلورو : کرناٹک اسمبلی انتخابات جوں جوں قریب آتے جارہے ہیں ، ریاست میں ویسے ویسے اقلیتوں کے ووٹ کیلئے سیاسی پارٹیوں کےدرمیان کھینچ تان بڑھتی جارہی ہے ۔ جہاں حکمراںپارٹی کانگریس ایک جانب اقلیٹی ووٹوں پر اپنی دعویداری کر رہی ہے، وہیں اس کو ایم آئی ایم اور دیگر چھوٹی چھوٹی پارٹیوں سے ووٹ کٹنے کا خطرہ بھی ستا رہا ہے۔ جبکہ ایم آئی ایم جیسی پاٹیوں کا کہنا ہے کہ کیا اقلیت کانگریس کی زر خرید غلام ہے جو اس کو ہی ووٹ دے گی، کانگریس نے اس کو دیا ہی کیا ہے، اس لیے اقلیت بھی اب نئی قیادت اپنے درمیان سے دھونڈھ رہی ہے ۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں ایم آئی ایم اور ایم ای پی کی شرکت کے اعلان کے بعد سے ہی بحث شروع ہے۔ کانگریس کے لیڈر اور ریاست کے وزیرداخلہ رام لنگا ریڈی نے ایم آئی ایم اور بی جے پی کے درمیان اندورن خانہ ساز باز کا الزام عائد کیا ہے۔ وہیں کانگریس کےمسلم لیڈر کہتے ہیں انتخابات میں مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے سازش کی جا رہی ہے۔
 ان کا صاف طورپرکہنا ہے کہ بی جے پی کو کامیاب بنانے کیلئے حیدرآباد کی سیاسی پارٹیوں نے کرناٹک میں قدم رکھا ہے۔ یوپی کے انتخابات سے قبل اویسی کے ساتھ حیدرآباد میں میٹنگ ہوئی تھی یہ ہمیں معلوم ہے، مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کیلئے یہ معاہدہ ہوا تھا، یہ سب کوپتاہے، راست طور پرنہ صحیح اندرونی سمجھوتا توضرور ہے۔