یو پی: بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے رکن اسمبلی پر برسایا جوتا، ویڈیو وائرل

12:54PM Thu 7 Mar, 2019

اتر پردیش کے سنت کبیر نگر میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی رکن اسمبلی کا ایک شرمسار کرنے والا ویڈیو منظر عام پر آیا ہے۔ دراصل سنت کبیر نگر میں ضلع منصوبہ کمیٹی کی میٹنگ ہو رہی تھی۔ اس دوران ایک ایسا واقعہ ہوا جس کے بارے میں جان کر ہر کوئی حیران و ششدر ہے۔ دراصل میٹنگ میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی اور بی جے پی کے ہی رکن اسمبلی راکیش سنگھ کے درمیان کسی بات کو لے کر زبردست بحث ہو گئی۔ بحث اس قدر بڑھ گئی کہ دونوں بی جے پی لیڈر آپس میں متصادم ہو گئے اور اس درمیان بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے اپنے پیروں سے جوتے نکال کر رکن اسمبلی پر ایک کے بعد ایک برسانا شروع کر دیا۔ جب تک لوگ شرد ترپاٹھی کو روکتے، اس وقت تک انھوں نے راکیش سنگھ کو دس بارہ جوتے لگا دیے تھے۔ اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔
ویڈیو کے مطابق رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی سمیت کئی لوگ اس میٹنگ میں شامل ہیں۔ اس دوران اچانک کسی بات کو لے کر رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی میں بحث ہوتی ہے۔ اچانک رکن پارلیمنٹ کھڑے ہوتے ہیں اور رکن اسمبلی پر جوتے برسانے لگتے ہیں۔ اس درمیان بھگدڑ جیسا ماحول بن جاتا ہے۔ وہاں موجود دونوں کے لیڈروں کے حامی اور پولس عہدیدار کسی طرح دونوں کو علیحدہ کرتے ہیں۔ خبروں کی مانیں تو رکن اسمبلی اور رکن پارلیمنٹ کے درمیان لڑائی کی وجہ مہنداول علاقہ میں سڑک کی تعمیر کے بعد وہاں موجود تختی میں رکن پارلیمنٹ کا نام نہ ہونا بتایا جا رہا ہے۔
اس مار پیٹ کے واقعہ کے بعد رکن اسمبلی راکیش سنگھ اپنے حامیوں کے ساتھ پولس اسٹیشن پہنچے اور رکن پارلیمنٹ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پولس اسٹیشن پہنچے بگھیل کی آنکھوں میں آنسو تھا اور ان کے حامی بار بار شرد ترپاٹھی کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ رکن اسمبلی علاقے میں ترقی کرنا چاہتے ہیں لیکن شرد ترپاٹھی ان کے اچھے کاموں کو پسند نہیں کرتے۔ بگھیل کے ایک حامی نے شرد ترپاٹھی کو جیل بھیجنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ مہنداول میں ترقیاتی کام نہیں کرنا چاہتے اور بگھیل کے کاموں کو اپنا بتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری طرف بی جے پی رکن پارلیمنٹ شرد ترپاٹھی نے بعد میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ میٹنگ کے دوران جو کچھ ہوا وہ افسوسناک تھا اور میرا مزاج بالکل ایسا نہیں۔ انھوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جو واقعہ پیش آیا ہے وہ دراصل ’عمل کا رد عمل‘ ہے اور میں نے اپنی حفاظت میں یہ قدم اٹھایا۔