جانوروں کی فروخت پر پابندی اور نئے جی ایس ٹی نظام۔ عوام کے لئے مودی سرکار کا نیا تحفہ بطورِ باعثِ پریشانی

04:53PM Thu 1 Jun, 2017

چن پٹن :(بھٹکلیس نیوز) ٹائیگر سید یوسف خوندمیری کو رڈنیٹر ، بنگلور زون کے پی سی سی ڈیپارٹمنٹ ، بنگلور نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ مودی حکومت نئے فرمان کونو ٹیفیکشن جاری کرکے مذبح کے لئے جانوروں کی فروخت پر پابندی لگادی ہے۔ وہ جمہوری اختیارات کے خلاف ورزی ہے۔ جانوروں کی فروخت کے قوانین میں لائی گئی سختی کی مخالفت کرتے ہوئے ٹائیگر یوسف کہا کہ اس قانون کے پیچھے آر یس یس کا ہاتھ ہے۔ یہ عوام کی پسندیدہ غذا کا اختیارات چھین لینے کے برابر ہے۔ اس قانون سے دیش کئی ریاستوں پر بُرا اثر پڑا ہے۔ سبزی خور ریاستوں سے زیادہ گوشت خوروں کی تعداد زیادہ ہے۔ گوشت اور چمڑے کے دھندے سے حکومت کو اربوں روپیوں کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس قانون سے خزانہ پر بھاری بوجھ پڑے گا اور ساتھ ساتھ لاکھوں لوگ بے روزگار ہونگے۔ اس کے لئے کوئی جانور بے کار یا بیمار ہوجائے تو کسانوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ اگر کسان ان جانوروں کو فروخت کرکے کچھ روپیہ وغیرہ آتا ہے تو دوسرا جانور خرید نے میں مدد ملے گی۔ کیا یہی اچھا ہوتا سب سے پہلے مودی جی کسانوں کی حالت ٹھیک کریں جانوروں کی فکر کرنا چھوڑ کر انسانوں کی قدر کریں۔ آپ کے لوگ معصوم انسانوں کو شدید تکلیف دے کر اُن کا وحشانہ خون کررہے۔ کیا انسانوں سے جانور اہم ہوگیا ہے۔ دوسری جانب ہوٹلوں پر 12تا 18 فیصد جی ایس ٹی اور آن لائن دواؤں کی فروخت کی مخالفت کرتے ہوئے ٹائیگر یوسف نے کہا یہ مرکزی حکومت کا احمقانہ اقدام ہے۔ ریاست کرناٹک میں کئی میڈیکل شاپ سے اس قانون سے متاثر ہوئے ہیں۔ صرف بنگلور میں 8500میڈیکل شاب ، ہوٹلوں پر اتنا زیادہ ٹیکس لگا کر ہوٹلوں میں فروخت ہونے والے کھانے پینے کی چیزیں ایک دم مہینگے ہوگئے ہیں اور گاہکوں کو زبردست پریشانی ہوئی ہے اس لئے اس ظالمانہ قانون کے خلاف 30مئی کو سارے جنوبی ہندوستان میں ہوٹل اور میڈیکل شاپ بند ہوئے ہیں۔ اربوں روپیے کا نقصان ہوا ہے۔ غریب عوام لاچار مریضوں پر ایک نیا ظلم ہوا ہے۔ اس کے لئے ساری اپوزیشن پارٹیوں کو اس جابرانہ قانون کے خلاف آواز اُٹھانا ہے۔ صدر جمہوریہ سے شکایت کرکے اس قانون کو رد کرتے ہوئے غریب عوام ، مریضوں اور مسافروں کے پریشانی سے آزاد کرائیں۔