ملت بیداری نے گلبرگ سوسائٹی مقدمے پر عدلیہ کے فیصلہ کا استقبال کیا

11:09AM Tue 21 Jun, 2016

گودھرا ریل حادثہ کے قصورواروں کو بھی جلد سے جلد سزا دی جائے: ڈاکٹر جسیم محمد علی گڑھ18؍جون : ملت بیداری مہم کمیٹی ( ایم بی ایم سی) علی گڑھ نے احمد آباد اسپیشل کورٹ کے ذریعہ گلبرگ سوسائٹی ( احمد آباد، گجرات)میں2002میں پر تشدد بھیڑ کے ذریعہ69افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں11مجرمین کو عمر قید، ایک کو دس برس کی قید اور 12مجرمین کو سات سال قید کی سزا سنائے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسی طرح گودھرا ریل حادثہ کے مجرمین کو بھی جلد سے جلد سزا دی جائے۔ 2002میں احمد آباد کی گلبرگ سوسائٹی میں پر تشدد بھیڑ نے69افراد کو زندہ نذر آتش کردیا تھاجو نہ صرف غیر انسانی تھا بلکہ ملک کی پیشانی پر ایک بدنما داغ بن کر ابھراجو تاریخ کے سیاہ اوراق میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوکر رہ گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور ممتاز ماہرِ قانون پروفیسر محمد شبیر نے مزمل منزل کامپلیکس میں واقع میڈیا سینٹر پر ملت بیداری مہم کمیٹی (ایم بی ایم سی)کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک اہم میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورٹ نے24افراد کو گلبرگ سوسائٹی واقعہ میں قصور وار قرار دے کر مناسب سزائیں دی ہیں جس سے نہ صرف ملک کی عدلیہ کا وقار مزید بلند ہوا ہے بلکہ مستقبل کے لئے ایک بہتر پیغام بھی نشر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا انصاف میں یقین رکھنے والا عوام اس فیصلہ کے بعد سکون محسوس کر رہا ہے۔ ایم بی ایم سی کے سکریٹری ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ ہندوستان ایک کثیر المذاہب ملک ہے اور ہماری تہذیب و ثقافت کا انحصار امن پر ہے لیکن وقت وقت پر فرقہ وارانہ حادثات ہماری ثقافت کو چیلینج کرتے ہیں مگر ان واقعات کو انجام دینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہندوستان کا عدلیہ نظام نہایت مضبوط ہے اور وہ کسی قصور وار کو معاف کرنا نہیں جانتا۔ ڈاکٹر جسیم نے کہا کہ اگرچہ اسپیشل کورٹ کے جسٹس پی بی دیسائی کے تاریخ ساز فیصلے نے گلبرگ سوسائٹی کے متاثرین کے ساتھ انصاف کیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ گودھرا ریل حادثہ کے قصورواروں کو بھی جلد سے جلد مناسب سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ فسادات سے نہ صرف عالمی منظر نامہ پر ملک کی توہین ہوتی ہے بلکہ ترقی کی راہ پر گامزن ملک کی اقتصادیات اور ترقیات کو بھی خاطر خواہ نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گودھرا کے متاثرین کے ساتھ بھی جلد انصاف کیا جائے۔ پروفیسر ہمایوں مراد نے کہا کہ کورٹ کو یہ ماننا کہ قصور وار سماج کے لئے مضر نہیں ہیں اور انہیں سنبھلنے کا ایک موقع ملنا چاہئے ایک دم درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت میں جی رہے جہاں ایک آنکھ کے بدلے ایک آنکھ کا اصول نہیں چلتا۔ ڈاکٹر محمد شاہد نے کہا کہ اس وقت ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ وہ ماضی کے واقعات کو بنیاد بناکر سماج سے بھائی چارے کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ میٹنگ کے آخر میں ملت بیداری مہم کمیٹی نے ایک تجویز پاس کرکے عدالت کے ذریعہ مجرمین کو منصفانہ سزائیں دئے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ گودھرا واقعہ کے قصورواروں کو بھی جلد سے جلد سزا دی جائے