بے قصور اقلیتی نوجوانو ں کی گرفتاری پر روک تھام کیلئے با اختیار کمیٹی تشکیل دی جائے گی 27تجاویز پر کابینہ ذیلی کمیٹی کااتفاق ۔ ریاستی کابینہ میں باقاعدہ منظوری لی جائے گی :ضمیر احمد خان

12:56PM Thu 10 Jan, 2019

بنگلورو۔10جنوری(سالار نیوز) ریاست میں اقلیتوں کے مختلف سلگتے مسائل حل کرنے اور سچر کمیٹی پر عمل پیرائی کیلئے سابق ریاستی کانگریس حکومت نے رمیش کمار کی صدارت میں ایک ذیلی کابینہ کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ اس کمیٹی کے دو اجلاس حالیہ ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل 27جنوری اور 24مارچ 2018کومنعقد ہوئے جس میں اقلیتوں سے متعلق کئی اہم معاملات پر غور وفکر کیا گیا تھا ۔ ریاستی مخلوط حکومت میں رمیش کمار اسمبلی اسپیکر بنائے جانے کے بعد اس کمیٹی کاصدر نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور کو بنایا گیا تھا ۔ ان کی مصروفیات کے پیش نظر اب کابینہ ذیلی کمیٹی کے صدر کا عہدہ ریاستی وزیر برائے درمیانی اور چھوٹی صنعتوں ،کے جے جارج کو دیا گیا ہے ۔ ریاستی وزراء بی زیڈ ضمیر احمد خان ، کرشنا بائرے گوڈا ،ایچ ڈی ریونا اور سارا مہیش اس کمیٹی کے اراکین ہیں ۔کل شام منعقدہ اس کمیٹی کے اہم اجلاس میں بحث و مباحثہ او رکافی غور وفکر کے بعد اقلیتوں سے متعلق 27معاملات پر عمل کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے ۔ ان میں چند معاملات پر راست متعلقہ محکموں کو ہدایت دی جائے گی اور چند تجاویز پر عمل پیرائی کیلئے ریاستی کابینہ کی منظوری ضروری ہے ۔ ان تمام معاملات کو منظوری کیلئے ایک ہی وقت کابینہ میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔آج یہاں ریاستی وقف بورڈ کے صدر دفتر میں منعقدہ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی وزیر برائے خوراک ، امور اقلیت ، اوقاف اور حج بی زیڈ ضمیر احمد خان نے بتایا کہ اب تک جو اوقافی املاک مزراعی ڈپارٹمنٹ میں شامل تھیں ان کو علاحدہ کرکے وقف بورڈ میں شامل کرنا طے ہوگیا ہے ۔ جن مقامات پر قبرستان کی ضرورت ہے وہاں اگر سرکاری زمین ہے تو اس کو الاٹ کرنے یا مناسب زمین خرید کر دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس موقع پر وزیر موصوف کی ہدایت پر ریاستی اقلیتی کمیشن کے سکریٹری انیس سراج نے بتایا کہ ریاست میں 14اضلاع ایسے ہیں جہاں ضلع پنچایت میں اقلیتی نمائندوں کی نمائندگی ہی نہیں ، چار تعلقہ پنچایتوں میں بھی اقلیتوں کی نمائندگی نہیں ۔ کئی اہم سرکاری محکمے ضلع پنچایتوں اور تعلقہ پنچایتوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان اداروں میں اقلیتوں کی نمائندگی نہیں تو اقلیتوں کے کام بھی متاثر ہوں گے ۔ اس لئے ان اداروں میں اقلیتی نمائندوں کو نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔ اس کیلئے پنچایت راج قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے ۔ اس پر کابینہ میں منظوری لی جائے گی ۔ ضمیر احمد خان نے بتایا کہ نیشنل تحقیقات ایجنسی ( این آئی اے)محض شبہ کی بنیاد پر اقلیتی نوجوانوں کو گرفتار کرکے لے جاتی ہے ، اس کی روک تھام کے لئے ریاست کرناٹک میں بھی ایک تین رکنی آزاد اتھارٹی تشکیل دینے پر بھی کمیٹی میں اتفاق ہوا ہے جس میں لازمی طور پر ایک اقلیتی نمائندہ ہوگا۔وزیر موصوف نے بتایا کہ دو ڈھائی سال قبل بیجاپور میں غیر قانونی طور پر مقیم 32بنگلہ دیشی شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا ، جن میں 8بچوں کو نابالغ قرار دے کر رہا کردیا گیاجبکہ 24بنگلہ دیشی پچھلے دو سال سے قید کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ جرم کے لئے سزا مقررہوتی ہے ۔ یہ بنگلہ دیشی دو سال کی سزا کاٹ چکے ہیں اب انہیں رہا کرکے ان کے ملک واپس بھیج دینا چاہئے ۔یہ بنگلہ دیشی ملازمت کی تلاش میں پاسپورٹ اور ویز ا کے بغیرسرحد پار کرکے آگئے تھے ۔ کمیٹی ان کو رہا کروا کر انہیں واپس ان کے ملک روانہ کرنے حکومت سے سفارش کی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 65,898آگن واڑی ادارے ہیں جن میں صرف 5532کثیر اقلیتی آبادی والے علاقوں میں ہیں۔ اس میں خاطر خواہ اضافہ کرنا طے پایا ہے ۔محکمہ بہبودی خواتین و اطفال کی پرنسپل سکریٹری اما مہادیون نے تیقن دیا ہے کہ اس پر سنجیدہ غور کریں گی۔ ووٹر فہرست میں اندراج انہوں نے بتایا کہ ووٹر فہرستوں سے مسلمانوں کے لاکھوں نام غائب ہیں۔ اس لئے پارلیمانی انتخابات سے قبل جن مسلمانوں کے نام نہیں ہیں انہیں ووٹر فہرستوں میں شامل کروانے متعلقہ ضلع کمشنروں کو ہدایت دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ رضا کار غیر سرکاری اقلیتی اداروں کو بھی اس کاذ کیلئے سرگرم ہوجانے کیلئے کہا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے 27تجاویز کو منظور کرلیا ہے ۔کابینہ کی منظوری حاصل کرنے ان تمام تجاویز کو ایک ساتھ ریاستی کابینہ میں پیش کیا جائے گا ۔وزیر موصوف نے دعویٰ کیا حالانکہ ان تجاویز کو حکومت نے اصولی طور پر قبول کرلیا ہے ۔ اب صرف کابینہ میں باقاعدہ منظوری لینی باقی ہے ۔ضمیر احمد خان محکمہ اقلیتی بہبود کے بھی وزیر ہیں اس لئے ان معاملات میں موصوف زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں تاکہ ان 27تجاویز پر باقاعدہ منظوری مل جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ کل 10جنوری کو وہ اپنے تمام محکموں کی قبل از بجٹ میٹنگ طلب کررہے ہیں تاکہ اقلیتوں کیلئے اگلے ریاستی بجٹ میں زیادہ فنڈ حاصل کیا جاسکے۔