کرناٹک کابینہ مستعفی: باغی ارکان کو کابینہ میں شامل کیے جانے کا امکان

12:17PM Mon 8 Jul, 2019

کرناٹک کابینہ کے تمام ارکان  مستعفی ہوگئے ہیں۔ بتایاجارہاہے کہ  کانگریس اور جے ڈی  ایس نے باغی ارکان اسمبلی کو منانے اور انہیں کابینہ میں شامل کرنے کے مقصد سے استعفیٰ دے دیاہے۔ کرناٹک کے وزیراعلیٰ وجے ڈی ایس لیڈرکمارا سوامی نے اس پورے معاملے پرکچھ بھی کہنے سے انکار کردیاہے۔کرناٹک کی سیاست میں ہر منٹ کچھ نہ کچھ نئی تبدیلی آرہی ہے جس کی وجہ سے کمارسوامی حکومت مزید پریشانیوں میں مبتلا ہوتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 13 مہینے پرانی کانگریس اور جے ڈی ایس اتحادی حکومت کو بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس سے پہلے  آج کانگریس پارٹی کے تمام 22 وزرا کے استعفیٰ دینے کی خبریں گشت کررہی ہیں جس کے بعد کمارسوامی حکومت مزید مشکلات میں پہنچ گئی ہے۔ کرناٹک اسمبلی کے 13 اسمبلی اراکین کے استفعی دینے کے بعد ریاست میں سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس درمیان اس بحران سے نکلنے کے لیے کمارا سوامی حکومت میں 22 کانگریس وزراء نے اپنی خوشی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس بات کی جانکاری کانگریس کے سینئر لیڈر سدارمیا نے میڈیا کودی۔ وہیں دوسری جانب آزاد رکن اسمبلی اور وزیر ایچ ناگیش نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ وہیں افواہیں گرم ہیں کہ ناگیش بی جے پی کی حمایت کریں گے۔ کانگریس اور جنتا دل (سیکولر)کے 13 ممبران اسمبلی پہلے ہی استعفیٰ دے چکے ہیں۔استعفیٰ دینے والوں میں 10کانگریس سے اور تین جنتا دل ایس کے ممبران ہیں۔استعفیٰ دینے والے ممبران میں سے بیشتر اس وقت ممبئی کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ناگیش کے گٹھ بندھن سرکار سے استعفیٰ دینے کے بعد کمار سوامی کی 13ماہ پرانی سرکار پر اقلیت میں آنے کا خطرہ پیدا ہوگیاہے۔
 کرناٹک کے سابق وزیراعلی اور اسمبلی میں قانون ساز پارٹی (سی ایل پی) کے لیڈر سدارمیا نے پارٹی کو موجودہ بحران سے نکالنے اور جنتادل (ایس) اتحاد ی کی اتحادی حکومت کوبچانے کے لئے 9جولائی کو پارٹی کے اراکین اسمبلی کی میٹنگ بلائی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی کو وہپ جاری کیا گیا ہے تاکہ وہ بغیر کسی چوک کے پارٹی کی میٹنگ میں شامل ہوسکیں۔اتحادی حکومت کی حمایت میں رہے 13اراکین اسمبلی، جن میں دس کانگریس کے اور تین جنتادل (ایس) کے شامل ہیں، کے استعفی کے بعد پارٹی کی یہ سب سے اہم میٹنگ ہوگی۔ اس میں پارٹی کے کرناٹک امور کے انچارج کے سی وینوگوپال، ریاستی صدر دنیش گنڈو اور کچھ دیگر اہم لیڈر بھی موجود رہیں گے۔