ملیشیائی وفد کی چیریٹی الائنس کے دفتر میں آمد

12:22PM Tue 4 Oct, 2016

بھٹکلیس نیوز / 04 اکتوبر،2016 نئی دہلی: ملیشیا کی یونیورسٹی ٹکنولوجی مارا کے ایک وفد نے پچھلے سنیچر کو چیریٹی الائنس کے ذمہ داروں سے ملاقات کی اور تفصیل سے اس کے کام کو سمجھا۔وفد کی قیادت پروفیسر عبدالحلیم محمد نور کررہے تھے جو مذکورہ یونیورسٹی میں سنٹر فار اسلامک فیلینتھروپی اینڈ سوشل فائننس کے ڈائرکٹر ہیں۔ وفد میں مذکورہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف بزنس اینڈ مینجمنٹ کے سینئر لیکچرر ڈاکٹر صلاح الدین عبد الرسول کے علاوہ ۱۲ طلبہ وطالبات بھی شامل تھے۔ چیریٹی الائنس کے صدر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے تفصیل سے پی پی ٹی پریزینٹیشن کے ذریعے چیریٹی الائنس کی تاریخ اور اطوار بتائے کہ کس طرح مرشدآباد میں ۲۰۰۵ کی بھکمری کی وجہ سے یہ ٹرسٹ قائم ہوا اور تب سے مستقل اس علاقے میں نہ صرف مدد فراہم کررہا ہے بلکہ وہاں ایک عمدہ اسکول اور ووکیشنل ٹریننگ سنٹر بھی چلارہا ہے۔اس کے علاوہ ٹرسٹ کے دوسرے بڑے کاموں میں مظفر نگر فساد کے دوران مظلومین کی ہر طرح کی مدد فراہم کی جس میں ۳۲ گھروں پرمشتمل ایک رہائشی کالونی کا قیام بھی شامل ہے جس میں فساد کے مظلومین نومبر ۲۰۱۵سے رہ رہے ہیں۔اس کے علاوہ ٹرسٹ کے کاموں میں ہندوستان میں مقیم برمی اور فلسطینی تارکین وطن کی مدد، غرباء کی میڈیکل مدد اورمستحق طلبہ کو اسکالر شپ، ہرسال ملک کے مختلف حصوں میں سینکڑوں جانوروں کی قربانی، فوڈ پیکٹس کی تقسیم شامل ہے۔ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے واضح کیا کہ بعض امور میں چیریٹی الائنس بہت منفرد ہے۔ مثلاً: مدد اور خیرات وزکاۃ کا ہر پیسہ غریبوں پر خرچ ہوتا ہے۔مرکزی سطح پر چیریٹی الائنس کوئی خرچ نہیں کرتا ہے بلکہ ملی گزٹ کے کارکن رضاکارانہ طورپر یہ خدمت مفت فراہم کرتے ہیں۔ چیریٹی الائنس کے کسی ٹرسٹی نے کبھی ایک پیسہ بھی ٹرسٹ سے نہیں لیا، بلکہ اپنی جیب سے کچھ خرچ کرنے کی صورت میں کبھی اسے واپس بھی نہیں لیا۔مکمل شفافیت کے ساتھ ہرسال کا آڈٹ شدہ اکاؤنٹ چیریٹی الائنس کے ویب سائٹ پر موجود ہے۔مدد کرنے والے دوستوں کو ہمیشہ دعوت ہے کہ فیلڈمیں آکر چیریٹی الائنس کے کام کو دیکھیں۔ملی گزٹ میں مسلسل چیریٹی الائنس کی خبریں اور اشتہارات بالکل مفت چھپتے رہتے ہیں۔ ملیشیائی وفد کے سامنے ری ہیب فاؤنڈیشن اور ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن نے اپنے کام کی تفصیل پیش کی۔اس موقع پر معروف صحافی معصوم مرادآبادی ایڈیٹر جدید خبر اور معروف عالم دین مفتی عطاء الرحمٰن قاسمی وغیرہ بھی موجود تھے۔ میٹنگ کے آخر میں ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا ۔ملیشیا کے مہمان وفد نے چیریٹی الائنس، ری ہیب فاؤنڈیشن اور ہیومن ویلفیر فاؤنڈیشن کے کام پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہندوستانی مسلمان ایک اقلیت ہونے کے باوجود سرگرمی سے سماجی اور فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیں۔