کرناٹک اسمبلی انتخابات ہندوتوا کے معاملہ میں کانگریس اور بی جے پی کی لفظی جنگ جاری

03:23PM Sat 3 Feb, 2018

بنگلورو۔3فروری (ف ن)اگلے کچھ ہی مہینوں میں کرناٹک اسمبلی انتخابات منعقد کئے جانے والے ہیں ، اور بر سر اقتدار کانگریس جماعت نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کی سیاسی حریف بی جے پی قصداً ہندوتوا کو انتخابی چال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ایک حالیہ واقعہ جس کی طرف بر سر اقتدار جماعت نے اشارہ کیا ہے وہ ہے چکمگلور میں ایک جوان خاتون کی خودکشی جب اس پر ایک بی جے پی ورکر نے یہ الزام لگایا تھا کہ اس کے ایک کی کالج کے ایک مسلمان ساتھی کے ساتھ تعلقات ہیں۔کانگریس کے ترجمان راجیو گوڈا نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے حال ہی میں کہا تھا کہ ’’اس وقت ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ بی جے پی نے ہندوتوا طریقہ کار کو کھلا چھوڑ دیا ہے اور ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آنگی پر اس کے منفی اثرات واضح ہو تے جا رہے ہیں،ساحلی علاقوں میں آگ لگی ہوئی ہے اور لوگ مر رہے ہیں۔لوگ بی جے پی کو ہندوتوا کی طرف دوبارہ مڑتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہو رہے ہیں اور لوگوں کے درمیان تقسیم میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی ریاست میں سدا رامیا حکومت کے کاموں کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے بھر پور کوشش کر رہی ہے ، لیکن انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے کرناٹک کے اقدار مجروح ہو رہے ہیں، راجیو گوڈا نے کہا کہ ’’ہم لوگ امن پسند ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ یوگی آدتیا ناتھ یہاں آئیں اور ریاست میں نفرت کی ؤگ پھیلائیں‘‘۔دوسری طرف بی جے پی نے کانگریس کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ترقی کے مدے پر ہی زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور آئندہ بھی دیں گے۔بی جے پی کے ترجمان ڈاکٹر وجے سونکر شاستری نے کہا کہ ’’کرناٹک میں خود کانگریس ہی ہندوتوا کو انتخابی مہم کاحصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔بی جے پی کے لئے تو سب سے اہم مدعا ترقی کا ہے‘‘۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں خاص طور پر ساحلی اضلاع میں فرقہ وارانہ فسادات کے کئی واقعات پیش آئے ہیں اور امیت شاہ کے بشمول اکثر بی جے پی قائدین کانگریس کی ریاستی حکومت پر یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ ہندو مخالف ہے۔سیاسی مبصرین البتہ یہ کہہ رہپے ہیں کہ یہ ریاست میں بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔سیاسی مبصر سندیپ شاستری کا کہنا ہے کہ ’’ وہ لوگ (بی جے پیوالے) اگرچہ کہ ریاستی حکومت کی بے عملی پر اسے ضرور نشانہ بنا رہے ہیں لیکن اس میں شدت نہیں ہے اس لئے کہ انہیں خوف ہے کہ اجگر وہ ایسا کریں گے تو لوگوں کی توجہ اس سے پہلے والی (بی جے پی) حکوم تمکے کاموں کی طرف جا سکتی ہے جو کہ موجودہ حکومت سے بھی زیادہ بے عمل تھی‘‘۔منی پال گلوبل ایجو کیشن سرویسس کے چیر مین اور سابق انفوسس کے رکن موہن داس پائلی نے بتایا کہ ’’اب کی بار انتخابات میں ہر کوئی سیاسی پارٹی کچھ بھی کر سکتی ہے، وہ ہندوتوا کارڈ کھیلیں گے، وہ فرقہ واریت کو ہوا دیں گے اور وہ لوگ انتخابات میں جیت کے لئے مذہب کو بھی استعمال کریں گے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس وقت خود کانگریس کی کچھ غلطیوں کی وجہ سے بی جے پی کو یہاں آنے اور یوگی آدتیہ ناتھ کو لانے اور ہندوتوا کا کھیلمکھیلنے کے لئے میدان فراہم کیا ہے، وہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں اس لئے کہ انتخابات ہر پارٹی اقتدار حاصں ل کرنا چاہتی ہے، آپ دیکھیں گے کہ کانگریس قائدین مسلمانوں کے ساتھ جا کر ٹوپی پہن لیں گے اور وہ تمام کام کریں گے جو کہ وہ انتخابات سے قبل کرتے ہیں اور ان کی تصویریں لے کر اس کی خوب تشہیر کریں گے، آپ دیکھیں گے کہ بی جے پی آئے گی اور وہ یہاں بڑی شدت کے ساتھ ہندوتوا کا کھیل کھیلے گیاور ہندوؤں کو اس بات پر راضی کر لے گی کہ وہ اسے ووٹ دیں، بس میرا خیال ہے کہ یہ ایک کھلا ہوا کھیل کا میدان بن گیا ہے‘‘۔