دینی علوم کا چراغ بجھانے کی سازشیں ہورہی ہے:مفتی اشرف علی باقوی

05:50PM Thu 27 Apr, 2017

بنگلورو۔(بھٹکلیس نیوز) امیرشریعت مفتی محمد اشرف علی باقوی نے گزشتہ رات عیدگاہ شاداب ٹیانری روڈ پر الکلےۃ السعودیہ مسجد بیوپاریاں بنگلور کے جلسہ دستار بندی وتقسیم اسناد وخلعت کے فارغ قرأء، علماء ،متخصصین فی الافتاء سے خطاب کیا۔ انہیں یہ نصیحت کی کہ دینی درسگاہوں کے قیام کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے، پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کے دور سے ہی یہ سلسلہ چلاآرہاہے۔ لیکن کچھ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اس دور میں مدرسے اور کتب خانے کہاں تھے تو انہیں یاد رکھنا ہے کہ حضورؐ نے بھی خود مسلمانوں کی جماعت کا سالانہ امتحان لیا تھا اور نتیجہ ظاہر کیا تھا۔ اس کے بعد اعلان کیا تھا کہ یہ عالم بن گئے۔ دینی مدرسوں کے ان امتحانوں کا سلسلہ حضورؐ کے زمانہ سے چلاآرہاہے اور علم سیکھنے والوں کو اس دور میں بھی تحفے تحائف دےئے جاتے تھے۔ 2010تا 2017ء الکےۃ السعودیہ میں فارغ ہونے والے152علماء، مفتی ، قراء کی دستار بندی اور تقسیم اسناد وخلعت کے بعد مولانا نے نصیحت آموز تقریر میں کہا کہ وہ رشتوں کی اہمیت کو دھیان میں رکھیں ،نصب کو بھی اہمیت دیں، یہ غیر اہم نہیں ہے۔ اسلام نے ہمیشہ اس کا خاص لحاظ اور اعتبار کیا ہے۔ اس دور میں مسلمانوں کی اخلاقی وتعلیمی تربیت منٹوں میں ہوتی تھی لیکن آج عالم فاضل مفتی بننے میں 8دس سال کی محنت لگتی ہے۔ جو لوگ مدرسوں اور دینی درسگاہوں پر تنقید کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ان درسگاہوں کا دورہ کریں اور دیکھیں کہ وہاں انہیں کس طرح تعلیم وتربیت دی جاتی ہے اور وہ یہاں کیسے سیکھتے ہیں۔ اساتذہ اور طلباء یہاں کیسی محنت کرتے ہیں۔ امیر شریعت نے فارغ علماء کی حالات حاضرہ کی روشنی میں جو اردو، عربی، کنڑا اور انگریزی میں تقاریر کی گئیں انہیں کافی سراہا۔ ان فارغ طلباء نے فتویٰ کی اہمیت، عبادت اور محبت میں فرق،وطن پرستی اور عبادت میں کیاامتیاز ہے وغیرہ کی بہترین پیرائے میں تشریح کی۔مدرسہ کے مہتمم مولانا محمد عتیق الرحمن رشادی نے استقبالیہ اور افتتاحی کلمات کے دوران فارغ علماء ومفتیان کرام سے کہا’’آپ کل تک کچھ اورتھے آج آپ کی دستاربندی اور سندسے نوازے جانے کے بعد آپ کی حیثیت بدل گئی ہے ۔لوگ اب آپ کو وارثت الانبیاء کی حیثیت سے پہچانیں گے ۔ یہ فتنوں کا دورہے، دینی علوم کا چراغ بجھانے کی سازشیں ہورہی ہیں، آپ اس چراغ سے اب روشنی پھیلائیں،اپنے مزاج میں تیڑھا پن لاؤ گے تو اس سے تباہی پھیلے گی۔ فارغین صرف روشنی پھیلائیں ،آج جو باطل ہوائیں چل رہی ہیں اسے بچانے کے لئے اپنے علم کا سہارا لیں۔ ناظم مدرسہ مولانا محمد حنیف افسر عزیزی نے نظامت کے فرائض انجام دئے اور مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔ صدر مدرس مولانا محمد لطف اللہ رشادی کے علاوہ پروگرام میں بطور مہمانان خصوصی، ریاستی وزیر برائے حج آر، روشن بیگ ،شانتی نگر کے رکن اسمبلی این اے حارث، شیخ داؤد، جمعہ مسجد ٹرسٹ کے صدر انور شریف، مولانا انعام الحق، مولانا زین العابدین وغیرہ اسٹیج پر حاضر رہے۔ کئی عمائدین شہرعلماء واکابرین نے بھی اجلاس میں شرکت کی ، رات دیڑھ بجے حضرت امیرشریعت کی دعا اور مولانا حنیف افسر عزیزی کے شکریہ پر جلسہ اختتام کو پہنچا۔