مسلمانوں کے خلاف چین کی پالیسی انتہائی شرمناک: امریکہ
03:57PM Thu 28 Mar, 2019
واشنگٹن: امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپيو نے مسلمانوں کے سلسلہ میں دوہری پالیسی اپنانے پر چین کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ مائیک پومپيو نے چین کی حراست میں رہ چکے ایغور مسلمانوں اور ان کے رشتہ داروں کے حالات کے بارے میں جاننے کے بعد کہا کہ چین مسلمانوں کو لے کر دوہری پالیسی اپنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ایک طرف اگر مسلمانوں کو ہراساں کر رہا ہے تو وہیں دوسری طرف پاکستان کی دہشت گرد تنظیم جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو اقوام متحدہ میں بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مسعود اظہر وہی دہشت گرد ہے جس نے جموں و کشمیر کے پلوامہ حملے کی ذمہ داری لی تھی۔
The world cannot afford China’s shameful hypocrisy toward Muslims. On one hand, China abuses more than a million Muslims at home, but on the other it protects violent Islamic terrorist groups from sanctions at the UN.
— Secretary Pompeo (@SecPompeo) March 27, 2019
مائیک پومپيو نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ چین کو من مانے طریقے سے حراست میں رکھے گئے تمام مسلمانوں کو رہا کرنا چاہیے اور ا ن کے خلاف ظلم وستم کو ختم کیاجانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری مسلمانوں کے سلسلہ میں چین کے شرمناک نفاق اور پاکھنڈکو برداشت نہیں کر سکتا ہے۔
اس سے قبل امریکہ کے ٹاپ سفارتکار نے چین میں اقلیتی گروپوں کے قیدی ’مہرگل ترسون ‘سے ملاقات کی۔ مہرگل ترسون وہی خاتون ہیں جنہوں نے چین کے حراست میں اقلیتی برادری کے قیدیوں کو ہراساں کیا کرنے کی بات کوعوامی طور پر ظاہر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان قیدیوں کو 24گھنٹے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں اذیتیں دی جاتی ہیں۔
امریکہ کی وزارت خارجہ کے مطابق مائیک پومپيو چین کے ایغور مسلمان قیدیوں کے رشتہ داروں سے بھی ملے۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں ایغوروں کو حراست میں لیا گیا ہے جو اقلیتی گروپ کو زبردستی ضم کرنے کی کوشش ہے۔ مائیک پومپيو نے کہا کہ چین کی یہ کوشش قابل مذمت ہے اور انہوں نے اسے روکنے کی اپیل کی۔
China has detained more than one million #Uighurs, ethnic #Kazakhs, and other #Muslim minorities in internment camps in #Xinjiang since April 2017. The U.S. stands with them and their family members. China must release all those arbitrarily detained and end its repression.
— Secretary Pompeo (@SecPompeo) March 27, 2019