ڈائزلنگ پبلک اسکول بیدر میں یوم اطفال کے موقع پر نمائش کااہتمام
04:01PM Tue 15 Nov, 2016
’’مسلم معاشرہ انڈین انگریزی اسکولوں کے قیام کی طرف رواں دواں،تاہم اردو اور کنڑا کی اہمیت مسلم ‘‘محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر۔(ایف او یس ) مسلم انگریزی تعلیمی اداروں کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ وہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ صرف مسلمان ہوتے ہیں ۔جبکہ ڈائزلنگ پبلک اسکول میں آکرمسرت ہوئی کہ یہاں غیرمسلم طلبہ وطالبات بھی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ مختلف طبقات کے طلبہ کایکجا تعلیم حاصل کرناہی اصلی بھارت کی نشانی ہے۔ اور یہ وہ گنگاجمنی تہذیب ہے جس کو ہمیں بھولنا نہیں ہے۔ یہ بات جناب محمدیوسف رحیم بیدری رکن کرناٹک اردو اکادمی حکومت کرناٹک نے کہی۔ وہ کل شام ڈائزلنگ پبلک اسکول موقوعہ نئی کمان بیدر میںیوم اطفال کے موقع پرمنعقدہ نمائش میں طلبہ اور اولیائے طلبہ سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔انھوں نے نمائش میں حصہ لینے والے طلبہ کے ماڈل کانام لے کر کہاکہ کسی مقابلے میں حصہ لینا اہم ہوتاہے ، بھلے طلبہ اس ماڈل کو بتانے میں جھجک سے کام لیں ۔ اہمیت مقابلے میں حصہ کی ہے۔ موصوف نے اولیائے طلبہ اور سرپرست ماؤں سے کہاکہ اردو نے اس ملک کی آزادی میں اہم ترین رول اداکیا۔ انگریزی اور ہندی کاکوئی رول انگریزوں کو ملک سے بھگانے میں نہیں رہاالاماشاء اللہ۔ آج اردو زبان کومسلمانوں کی زبان بنادی گئی ہے۔ اور کچھ دہوں سے مسلمانوں نے بھی انگریزی اسکول کھول کر خود کو اردو سے علیحدہ کرناشروع کردیاہے۔ تاہم ایسے انگریزی اسکولوں کو انڈین انگریزی اسکول کہنابہترہوگا۔ مسلمانوں سے مجھے صاف طورپر کہناہے کہ آپ اردوزبان کو چھوڑ دیں گے تو اس کامنفی اثر آپ کی مذہبی، ثقافتی ، تاریخی اور ادبی موقف پر پڑے گا۔ ایسے انگریزی اسکولوں کوچاہیے کہ وہ اردو کو بطور مضمون رکھیں۔ دوسری بات یہ کہ جو مائیں اپنے بچوں کامستقبل کرناٹک میں بناناچاہتی ہیں وہ کنڑا کی طرف توجہ دیں ۔ کنڑا زبان سیکھنے سے مسلمانوں کو ریاست میں 60%تک مواقع حاصل ہوسکتے ہیں۔ اس موقع پر اولیائے طلبہ نے بتایاکہ ڈائزلنگ پبلک اسکول میں ہمارے بچوں کو اردو بھی پڑھائی جاتی ہے۔ جناب عبدالعلی نیوزایڈیٹر روزنامہ حیدرآباد کرناٹک نے محمدیوسف رحیم بیدری کے ساتھ نمائش کا افتتاح فیتہ کاٹ کر کیا اور اپنے خطاب میں کہاکہ طلبہ کے مستقبل کوبنانے میں بنیادی تعلیم کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ، ڈائزلنگ اسکول سے بنیادی تعلیم حاصل کرنے والے کئی طلبہ آج ڈاکٹریٹ اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ موصوف نے محترمہ سیدہ وسیم بانو صدر اور سکریڑی سید فضل پرویز کی سرپرستی میں چلنے والے اس اسکول کے تعلیمی معیار کو سراہا۔ اور اس موقع پر شالپوشی اور گلپوشی کے ذریعہ عزت افزائی کرنے پر شکریہ اداکیا۔اس تعلیمی نمائش میں طلبہ وطالبات عائشہ فاطمہ ، عدنان سمیع ، ثنافاطمہ ، شائستہ انجم، ذوفشاں فاطمہ ،نزہت بیگم، سلینہ کوثر، نیہاں کوثر، سید رحمن اللہ ، عبدالثمیر، شگفتہ ، سنتوشی ، محمدعمران ، توفیق احمد اور سہیل شیخ وغیرہ نے لکڑی گھر، مائیکرواسکوپ، خلیہ ، پلانٹ ، واٹرسرکل ، پھولوں کی خوبصورتی ، لال قلعہ ، چوبارہ، پولیس اسٹیشن ، ہائی کورٹ، سٹی اسپتال، کعبہ ، مدینہ منورہ ، بس اسٹائنڈ، بیدر کی تاریخی عمارتیں ، قطب مینار ، اور غذائی پیداوار کے ماڈل پیش کئے۔ اور نہایت ہی خوبصورتی سے انگریزی میں ان ماڈلس کی وضاحت کی۔ جوطلبہ خود ماڈل بنے ہوئے تھے ان میں چنداہم نام یہ ہیں۔ ندیم نے گاندھی جی، محمدسہیل نے سردار، محمدمبین نے ٹیپوسلطان ، سید سعید علی نے انسپکٹر، شاہدرضا نے چچانہرو، کے علاوہ مہک ترنم نے کشمیری لڑکی ، تہنیت نے پری ، مہک مہرین ، تسنیم بیگم وغیرہ نے مسلم وغیرمسلم دلہنیں اور چند طالب علموں نے دلہوں کاماڈل بن کر دیکھنے والوں کودل موہ لیا۔ اسکول کے قابل اساتذہ ذکریٰ انجم، اسریٰ انجم، ایم اے سلیم، محمدادریس، پریم کمار ، یاسمین سلطانہ ، عاطفہ نظرایمن، گیتا، سیدہ عشرت بیگم، ریشماں بیگم، سید روحی تمکین، شلپا رانی ، ذوفشاں ارم،ماہرہ فاطمہ ، افشاں حناء، سیدہ ارم فاطمہ ، طلعت بیگم اور بشیرمیاں شریف نے طلبہ وطالبات کے ’’یو م اطفال ‘‘ کے موقع پر منعقدہ شاندارنمائش کی نگرانی جہاں کی وہیں طلبہ کو بھرپور حوصلہ دیا اور ماڈلس کے ذریعہ ان کی صلاحیتوں کو سامنے لانے میں کامیابی حاصل کی۔