طلاق ثلاثہ بل لوک سبھا میں منظور، اپوزیشن کا ایوان سے واک آوٹ

01:48PM Thu 27 Dec, 2018

تین طلاق بل لوک سبھا میں منظورہوگیا ہے۔ بحث مکمل ہونے کے بعد  کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے ایوان سے واک آوٹ کردیا۔ اس دوران مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اورممبرپارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے پانچ ترامیم پیش کیں، جو خارج کردی گئیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ بل جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجی جائے کیونکہ اس بل میں کئی خامیاں ہیں۔ تین طلاق بل کی مخالفت کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملکا ارجن کھڑگے نے کہا کہ اس پر15 دنوں کے اندررپورٹ طلب کی جائے۔ مرکزی وزیرقانون روی شنکرپرساد نے بحث کے بعد کہا کہ یہ بل ووٹ بینک کے لئے نہیں ہے۔ اچھی بات یہ رہی کہ تمام ارکا ن نے اس بل کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ قوم کو نشانہ بنانے کے لئے نہیں ہے۔ بل میں سمجھوتہ کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ وزیرقانون نے کہا کہ 22 اسلامی ممالک نے تین طلاق پرقانون بنایا پھرہندوستان جیسے سیکولرملک میں یہ قانون کیوں نہیں بننا چاہئے۔
 روی شنکرپرساد نے کہا کہ ایف آئی آرکا غلط استعمال نہ ہو، اس لئے اس میں ترمیم کی گئی ہے۔ انہوں نے بحث کہا کہ ہم عورتوں کوانصاف دلانے اوران کوان کا حق دلانے کے لئے ہم یہ بل لےکرآئے ہیں۔ اس لئے اس پرسیاست نہ کرکے اس کے ساتھ آنا چاہئے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ طلاق ثلاثہ بل کوجلد بازی میں نہ پیش کیا جائے۔روی شنکرپرساد کا کہنا ہے کہ یہ بل کسی بھی طبقے کے خلاف نہیں ہے، یہ بل خواتین کو انصاف دلانے اورانہیں ان کے حقوق دلانے کے لئے ہے۔ انہوں نے یہ بھی طلاق ثلاثہ پردنیا کے 20 ممالک میں پابندی عائد کی گئی ہے۔