سعودی عرب کی نئی اقتصادی پالیسی سے ہندوستانی ملازمین متاثر

02:34PM Sun 8 May, 2016

لکھنؤ۔ سعودی عرب کی نئی اقتصادی پالیسی ہندوستانی باشندوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کی رائے میں سعودی عرب میں کام کرنے والے ہندستانی باشندے بڑے پیمانے پر بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ بن لادن کمپنی میں ملازمین کی چھٹنی اسکی واضح مثال ہے۔ سعودی عرب کے نائب ولی عہد محمد بن سلمان نے حال ہی میں مملکت کی نئی اقتصادی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب اسکے تحت 2030 تک تیل مصنوعات کی آمدنی پر اپنےانحصار کو پانچ فیصد تک محدود کردیگا اور آمدنی کے دیگر ذرائع پیدا کئے جائیں گے۔ اسکے ساتھ ہی سعودی باشندوں کو تمام شعبوں میں زیادہ نمائندگی دی جائے گی۔ اطہر حسین،ڈائریکٹر کورڈ، لکھنؤ کے مطابق سعودی عرب کا نیا اقتصادی ویژن ان کے لیے بہت اچھا ہوسکتا ہے لیکن اس سے مملکت میں رہنے والےغیرمقیم ہندستانی بڑے پیمانے پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب سے واپس آنے والےمزدوروں کو ہندستان میں روزگار فراہم کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ عالم عرب پر گہری نظر رکھنے والے عربی مجلہ البعث الاسلامی کے مدیر ڈاکٹر سعید الرحمان اعظمی بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ انکے مطابق سعودی عرب نے اپنے ملک کےلئے دانشمندی بھرا قدم اٹھایا ہے۔اس سے دیگر ممالک کے باشندوں کو دشواری ہو سکتی ہے لیکن ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب میں تقریبا 25 لاکھ ہندستانی باشندے کام کرتے ہیں ۔ حال میں سعودی عرب کے بن لادن گروپ نے جس طرح سے مزدوروں کی چھٹنی کی ہے۔اس سے سیکڑوں ہندستانی ملازم بے روزگار ہو گئے ہیں ۔آنے والے وقت میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت ہند کو اسکے بارے میں ابھی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔