مدارس کے پروگراموں میں غیر مسلموں کوبھی مدعوکیاجائے
12:33PM Sun 2 Nov, 2014
بھٹکلیس نیوز/02 نومبر، 14
آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈکے ترجمان نے غلط فہمیوں کودورکرنے کیلئے پیش کی تجویز
نئی دہلی (ایجنسی)آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ملک میں مدرسوں کو لے کر پیدا ہوئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے مدرسوں کے پروگراموں اور دیگر مسلم اجتماعات میں دوسرے فرقوں اور تنظیموں کے لوگوں کو بھی مدعو کرنے کی تجویزپیش کی ہے۔پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان عبد الرحیم قریشی نے آج کہاکہ مدرسوں کو لے کر بہت ساری غلط فہمیاں ہیں۔ ایسی غلط فہمی ہے کہ مدرسوں میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے اور اس میں بم بنائے جاتے ہیں۔ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں نفرت کو ختم کیا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ میری تجویز ہے کہ ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے مدرسوں اور مسلمانوں کے دوسرے پروگراموں میں غیر مسلم لوگوں کو بلایا جائے۔ایسا کرنے سے لوگوں کی بارے میں غلط فہمیاں دور ہوں گی۔قریشی نے اپنے حوالے سے ایک ہندی اخبار میں شائع ہوا اس خبر کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پرسنل لاء بورڈ نے مدرسوں کے پروگراموں میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگوں کو بلانے کی پیروی کی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں نے کسی تنظیم کا نام نہیں لیا ہے۔میرا صرف اتنا کہنا ہے کہ مدرسوں کے لوگ اپنی سطح سے معاشرے میں دوسرے فرقوں کے لوگوں کو اپنے یہاں کے پروگراموں میں بلا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بی جے پی کے لیڈران اس قسم کی غلط بیانی کرتے رہے ہیں کہ مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ان کے اس بیان کو لے کر خاصا تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔مرکزی حکومت کی جانب سے مدرسہ جدید کاری کیلئے بجٹ میں کی گئی 100کروڑ روپے کی فراہمی کے بارے میں قریشی نے کہاکہ حکومت اس بارے میں ابھی کوئی منصوبہ سامنے لے کر نہیں آئی ہے۔جب وہ کوئی منصوبہ سامنے لے کر آتی ہے تو پھر بات کی جائے گی۔اس بارے میں ہم اپنی سطح سے حکومت کے ساتھ بات چیت کی کوئی پہل نہیں کریں گے۔
ع،ح