پہلوخان معاملہ: اشوک گہلوت نے کہا- بی جے پی حکومت نے کرائی تھی جانچ، خامی پائی گئی تو پھرکرائیں گے تفتیش
12:01PM Sat 29 Jun, 2019
Share:
راجستھان کےالورمیں دوسال پہلے گئوکشی کےالزام میں ہجوم کےذریعہ پٹائی کے بعد موت کا معاملہ پھرگرم ہوگیا ہے۔ پولیس کی طرف سےعدالت میں پیش کی گئی چارج شیٹ میں پہلو خان اوراس کے دوبیٹوں کوگئوکشی کا ملزم بنایا گیا ہے۔
اس مسئلے پرراجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ہفتہ کوکہا کہ معاملے کی جانچ گزشتہ حکومت میں ہوئی تھی اورجانچ پوری ہونے پرچارج شیٹ پیش کی گئی۔ اگراس جانچ میں کوئی خامی پائی گئی توہم پھرسے تفتیش کروائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجرم کو چھوڑیں گےنہیں، وہ کوئی بھی ہو۔
اشوک گہلوت نےکہا کہ اس معاملے میں گزشتہ حکومت میں جانچ ہوئی تھی۔ جانچ پوری کرکےکورٹ میں چارج شیٹ پیش کی گئی۔ اس کے بعد پہلوخان کے بیٹےعبوری ضمانت لینے کے لئےعدالت میں چلے گئے، عدالت جانے پرانہیں ضمانت مل گئی۔ عدالت نےکہا کہ جب تک آپ ملزم کولےکرنہیں آوگے تب تک چالان پیش نہیں کریں گے۔ ملزم پیش ہوئے تو پولیس نے چالان پیش کردیا۔ اس پورے حادثہ کی تفتیش بی جے پی حکومت میں ہوئی تھی'۔
بی جے پی نےکانگریس پرلگایا یہ الزام
بی جے پی کے ریاستی نائب صدرگیان دیوآہوجہ نے دوسال پہلےالورمیں موب لنچنگ کا شکارہوئے پہلو خان معاملےمیں کانگریس پربڑا حملہ کیا ہے۔ گیان دیوآہوجہ نےکہا ہے کہ پہلوخان، اس کے بھائی اوربیٹے مجرم تھےاورگئوکشی میں ملوث تھے۔ مقامی لوگوں نے پہلوخان کی اس گاڑی کوصرف روکا تھا، جس میں گایوں کی اسمگلنگ کی جارہی تھی۔ مقامی لوگوں نےاس کی پٹائی نہیں کی تھی، اس کی موت پولیس حراست میں ہوئی۔ کانگریس نےتب اس کےاہل خانہ کومالی مدد دی تھی اوراب ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہےتو کانگریس سہرا اپنے سرلے رہی ہے۔