ماہی گیروں کی عرضی کرناٹک ہائی کورٹ میں خارج نہیں ہوئی :ایڈوکیٹ

03:18PM Mon 10 Nov, 2014

بھٹکلیس نیوز/10نومبر ،14 کاروار/(نامہ نگار)ایڈو کیٹ کے آر دیسائی نے کہا کہ یہ مشہور کیا جارہا ہے کہ ماہی گیروں کے ذریعہ دائر کردہ عرض داشت کرناٹک ہائی کورٹ نے خارج کردی ہے جبکہ ہائی کورٹ سے 130 ماہی گیروں کی دائر کردہ عرض داشت کے جواب میں گورنمنٹ پلسڈر نے یقین دلایاتھا کہ ضلعی انتظامیہ ماہی گروں کے سازوسامان رکھنے کے لئے انتظام کرر ہی ہے ،ایڈوکیٹ موصول کاروار کے کے ین جی او ہال میں آل انڈیا کونکن کھاروی مہاجن سماج کی جانب سے منعقدہ اخباری کانفرس میں خطاب کر رہے تھے ،انہوں نے کہا کہ جس زمین پر ماہی گیروں نے جھونپڑیاں بنائی تھیں وہ زمین قبضہ کی گئی زمین نہیں ہے بلکہ وہ سیلابی زمین ہے ،اور اس زمین میں ماہی گیروں کو عارضی طور پر اپنی روایتی  ماہی گیری کرنے کا اختیار ہے اور ایسی زمین کے استعمال کے لئے کو ئی ٹیکس بھی دینے کی ضرورت نہیں ہے ،انہوں نے کہا کہ متبادل انتظام کئے بغیر جھونپڑیاں ہٹانے کا عمل سراسرزیادتی ہے اس سلسلے میں ہم حقوق انسانی کمیشن سے بھی رجوع کریں گے ،جنا شکتی ویدیکے کے صدر مادھوی نائک نے کہا کہ یہ ضلعی انتظامیہ کا فرض ہے کہ ماہیگیروں کو اپنے سازوسامان رکھنے کے لئے متبادل انتظام کرے، متبادل انتظام کئے بغیر جھونپڑے ہٹانا ٹھیک نہیں ہے اور اس عمل سے ماہی گیروں کو کافی تکلیف پہنچی ،ایڈوکیٹ دیسائی نے بتایاکہ ماہی گیروں کو اپنے سرکل کے پاس 7958مربع میٹر اور انسپکشن بنگلے کے قریب دو ایکڑ 2گنٹے 8آئے زمین مختص کی گئی ہے ، اخباری کانفرس میں آل انڈیا کونکنی کھاروی مہاجن سبھا ضلعی شاخ کے صدر میاروراباناولی موجودتھے ع،ح،خ