میرا نام عبدالرحمان ہے، لیکن دہشت گرد نہیں ہوں
02:41PM Sat 13 Jun, 2015
نئی دہلی،12؍جون (آئی این ایس انڈیا )
27سال کے ایم بی اے کے طالب علم عبدالرحمان کی پیٹھ پر 9ماہ قبل پولیس کے ذریعہ کی زیادتیوں کے نشانات اب بھی تازہ ہیں۔اس کی غلطی صرف اتنی تھی کہ 29؍ستمبر کی رات جب پرگتی میدان کی بیرکیڈنگ پر تعینات پولیس نے عبد الرحمان کی موٹرسائیکل کو اشارہ دیا تو اسے دور ہو نے کی وجہ سے نظر نہیں آیا اور بریک لگانے میں تاخیر ہو گئی۔موٹر سائیکل تھوڑی دورجاکررکی۔دوست کے سر پر ہیلمیٹ نہیں تھا، اس لیے پہلے پوچھ گچھ ہوئی۔پھر نام پوچھا گیا اور اس کے بعد ان کے ساتھ جم کر نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا ۔دہلی کے مدن گیر علاقے میں رہنے والا اس کا دوست بھی اس واقعے کو یاد کرکے سہم جاتاہے۔اس نے بتایا کہ ایک پولیس والا اسے پیٹ رہا تھا اور اپنے دوسرے ساتھی سے کہہ رہا تھا دیکھو اس کی تصویر کے پیچھے پاکستان کا پرچم تو نہیں ہے ۔اس دوران ان کو دہشت گرد تک کہا گیا۔پرگتی میدان کے بیرکیڈنگ سے شروع ہوئی پٹائی دیررات تک تلک مارگ تھانے میں بھی جاری رہی۔جب معاملہ پٹیالہ ہاؤس عدالت میں پہنچا تو علاقے کے ڈپٹی کمشنر نے اپنی رپورٹ میں مارپیٹ کے واقعہ سے صاف انکار کر دیا۔وہیں دہلی پولیس کا ویجلنس محکمہ کہہ رہا ہے کہ تلک مارگ تھانے میں عبد الرحمان کی بری طرح پٹائی ہوئی اور اسے دہشت گرد تک کہا گیا۔پیشے سے مالی عبد کے والد اسرار علی کہتے ہیں کہ کیامسلمان ہونے کی سزا میرے بیٹے نے بھگتی ہے؟ مجھے انصاف چاہیے۔جب اس مسئلے پر ایک ٹی وی چینل نے دہلی کے پولیس کمشنر بی ایس بسی سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ تفتیش میں مجرم پائے جانے پر کسی کو بخشا نہیں جائے گا۔بسی نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی حکم دے رکھا ہے کہ قانون کے دائرے میں رہ کر پولیس کو حساسیت کے ساتھ کام کرنا چاہیے ۔مجرم پائے گئے توچھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں۔یہ معاملہ عدالت میں ہے اور اب پولیس کمشنر کو اپنی رپورٹ میں یہ صاف کرنا ہوگا کہ ان کے ڈی سی پی کی رپورٹ صحیح ہے یا پھر ویجلنس کی۔