تیرہ سال سے کوئی امریکی صدرنہیں گیا پاکستان، ٹرمپ نے عمران خان سے کہا، میں آوں گا

04:18PM Tue 23 Jul, 2019

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے منگل کوکہا کہ طویل وقت کے بعد امریکہ کے ساتھ پاکستان کے درمیان آپسی سمجھ بنی ہے اور تعلقات کوپھرسے پٹری پرلایا گیا ہے۔ امریکہ کے تین دن کے دورے پرآئے عمران خان نے پیرکوٹرمپ سے ان کے اوول دفترمیں ملاقات کی۔ عمران خان نے ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وہائٹ ہاوس میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت گزارے، انہوں نے کہا 'میرا ماننا ہے کہ ہم یقیناً اب شراکت دارہیں اورہم دونوں افغانستان اورپاکستان میں امن چاہتے ہیں۔ امن کے عمل کوآگے لے جانا یقینی کرنے کے لئے ہرممکن کوشش کریں گے'۔
 عمران خان نے دیا اس معاملے پرزور
عمران خان نے ٹی وی چینل 'فاکس نیوز' سے کہا 'ہم اصل میں آپسی سمجھ پرمبنی اپنے تعلقات کو پھرسے قائم کرنا چاہتے تھے، ایسا اس لئے کہ چیزوں کولے کرہمارا نظریہ ایک جیسا ہے۔ ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔ طالبان کو بات چیت کی میز پرلانے کے لئے پاکستان ہرممکن مدد کرے گا تاکہ امن قائم ہو۔ مجھے لگتا ہے کہ آج ہم اسے سمجھ پائے ہیں'۔ ٹرمپ نے قبول کی عمران خان کی دعوت پاکستان نےمنگل کوکہا کہ امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان آنے کے لئے وزیراعظم عمران خان کی دعوت کوقبول کرلیا ہے۔ پاکستانی نیوزچینل 'جیونیوز' کے مطابق واشنگٹن میں پریس کانفرنس کوخطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرخارجہ ایف ایم قریشی نےکہا کہ ٹرمپ کے دورے کےتعلقات میں جلد اتفاق ہوگا۔ اگریہ دورہ ہوا توڈونالڈ ٹرمپ پاکستان کا سفرکرنے والے چھٹے امریکی صدرہوں گے۔ ایک دہائی سے بھی پہلے جارج ڈبلیو بش نے دورہ کیا تھا۔ بش مارچ 2006 میں اسلام آباد گئے تھے، اس وقت پاکستان میں صدرپرویزمشرف کی فوج اقتدارمیں تھی۔ ایک سوال پرعمران خان نے کہا کہ وہ امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کو بغیرکسی لاگ لپیٹ کے بولنے والامانتے ہیں اور وہ گھما پھرا کرنہیں بولتے۔ عمران خان نے کہا کہ افغانستان کو امن کی ضرورت ہے اورطالبان کو سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے ساتھ اب تک کی بات چیت کامیاب رہی ہے۔