پرتاپ گڑھ میں مسلم ووٹوں کی تقسیم سے سیکولر قوتوں کو مزید نقصان کا خطرہ ،مسلم قیادت کے فقدان سے مسلمانوں میں اتحاد کا بحران
01:00PM Wed 15 Feb, 2017
پرتاپ گڑھ۔(بھٹکلیس نیوز) اتر پردیش کے پرتاپ گڑھ ضلع کی چوتھے مرحلے کی پولنگ آئندہ 23/ فروری کو ہوگی ۔ابھی پولنگ کیلئے ایک ہفتہ سے زیادہ وقت باقی ہے ۔سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیا ں عروج پر ہیں لیکن اگر ابھی تک کوئی تذبذب کا شکار ہے تو وہ مسلم ووٹر ہیں جہاں مسلم قیادت کے فقدان کے سبب اتحاد کو منتشر کرنے میں مقامی سطح کے کچھ نام نہاد مسلم لیڈر اور علماء ہیں جو مسلمانوں کو بیدار کرنے کے بجائے انہیں مزید گہری نیند میں سلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔تعلیمی میدان میں پسماندہ مسلم طبقہ آپس میں منقسم ہے جس کا فائدہ سیاسی پارٹیاں بخوبہ اٹھاتی ہیں ۔یہاں تک کہ کبھی کبھی فرقہ پرست قوتوں کو سمجھ نہیں پاتی اور انکے نرغے میں پھنس کر اپنے مخالفین کو ووٹ دے دیتے ہیں پھر پانچ سال تک پچھتاتے ہیں کہ انہوں نے غلطی کی ہے ۔
ادھر سیکولرزم کی نقاب میں مختلف سیاسی پارٹیوں سے ایسے امیدوار ہیں جنہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہونچانے کی کوشش کی ہے لیکن سیکولرزم کی نقاب میں مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے راغب کرنے میں مصروف ہیں ۔۔اور ان کا تعاون بھی ایسے نام نہاد مسلم لیڈر و کچھ علماء کر رہے ہیں جو اپنے مفاد کیلئے فریب سے مسلمانوں کا ووٹ مخالفین کے کھاتہ میں منتقل کرانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ اس مرتبہ اگر مسلم ووٹ تقسیم ہوئے تو سیکولر قوتوں کی جڑیں مزید کمزور ہونے کا خطرہ لاحق ہے ۔ اس وقت نام نہاد رہنما مسلمانوں کے غمگسار بن کر ان کے ووٹ بیکار کرنے میں سرگرم ہیں۔ضلع کے سات اسمبلی حلقوں میں جہاں بی جے پی و اس کے اتحاد کے علاوہ مختلقف سیاسی پارٹیوں سے ایسے امیدوار میدان میں ہیں جن کے کردار کے متعلقہ مسلم ووٹر بخوبی واقف ہے ۔سیکولرزم کے نقاب میں ایسے امیدوار بھی ہیں جو آر ایس ایس کے کیڈر ہیں،اور ایک سیکولر سیاسی پارٹی سے گزشتہ 2012 الیکشن میں پالہ بدل کر ایم ایل اے منتخب ہوئے اور موجودہ وقت میں وزیر ہیں۔اس طرح ایک امیدوار تو ایسے ہیں کہ بلاک پرمکھ کے الیکشن میں کھلے عام مسلم امیدوار کی مخالفت کی ہے جب کہ مخالفت کے باوجود مسلم بلاک پرمکھ کی فتح ہوئی۔مفاد پرستی کے زنگ نے کچھ مبینہ مولوی و لیڈران کے ضمیر کو کھا لیا ہے کہ وہ پوری قوم کو اپنے مفاد کی ہانڈی پر چڑھا دیا ہے ۔
اگر مسلم ووٹر بیداری سے اپنی عقل و شعور کا استعمال کر تا ہے تو مخالفین کے منصوبے ناکام اور خواب چکناچور ہوں گے ۔لیکن اس کیلئے ان مبینہ مفاد پرست مولویوں اور لیڈان کے مشوروں کو مسترد کرکے خود فیصلہ لینا ہو گا ۔۔مسلمانو کا المیہ کہیں یا جذبہ احترام کہ وہ ہر انتخاب کے موقع پر اپنی فکر و دانش کو طاق پر رکھ کر دیتے ہیں اور مفاد پرستوں کے مشورے پر لبیک کہتے ہوئے اپنے مسقبل کو ایسے امیدوار کے حوالے کر دیتے ہیں جو پورے پانچ سال ان کا استحصال کرتا ہے ۔اس وقت سبھی سیاسی پارٹیوں کی نظر مسلم ووٹوں پر ہے کہ کس طرح کا حربہ استعمال کرکے ووٹ حاصل ہو سکتا ہے ۔اس وقت مسلم ووٹوں میں نقبزنی کرنے کیلئے نام نہاد رہنما مسلمانوں کو تلقین کر رہے ہیں کہ فلاں کو ووٹ دو ،فلاں کی مخالفت کرو ،فلاں کی فتح یقینی بناوُ ۔آخر مسلم ووٹرس کب تک ان مفاد پرستوں کے مشوروں پر عملی جامہ پہنا کر اپنے مستقبل کو قربان کرتے رہیں گے ،اب وقت بیدار ہونے کا ہے اتحاد اور عقلمندی و شعور سے ہی مستقبل روشن ہو سکتا ہے ۔