Biometric verification mandatory for new mobile Sim issuance, user detail update
09:08PM Sat 22 Aug, 2026
نئی دہلی: اگر آپ بھی نیا سم کارڈ خریدنے یا پرانا نمبر تبدیل کروانے کا سوچ رہے ہیں تو یہ کام اب صرف دکان پر آدھار کارڈ کی فوٹو کاپی دے کر نہیں ہوگا۔ فرضی کالز اور تیزی سے بڑھتے سائبر فراڈ پر لگام لگانے کے لیے حکومت نے موبائل سم لینے کے قواعد اب سخت کر دیے ہیں۔ ملک میں ٹیلی کمیونیکیشن (یوزر آئیڈینٹی فکیشن) رولز، 2026، 21 اگست سے ہی نافذ ہو چکے ہیں۔ اب کسی بھی ٹیلی کام سروس کے لیے صارف کی لائیو بایومیٹرک شناخت یعنی چہرے کی لائیو تصویر، فنگر پرنٹ یا آئرس اسکین لازمی کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے میں دوسروں کی دستاویزات کا غلط استعمال کرکے فرضی سم جاری کرانے اور پھر ان کے ذریعے آن لائن فراڈ کرنے کے معاملات میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سائبر ٹھگ اکثر کسی نامعلوم شخص کی آئی ڈی پر سم نکلوا کر مجرمانہ سرگرمیوں کو انجام دے رہے ہیں۔ اسی منظم ٹیلی کام فراڈ اور فرضی کالز کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے لیے حکومت نے صارف کی لائیو بایومیٹرک شناخت کو سم ایکٹیویشن کی لازمی شرط بنا دیا ہے۔ اس سے فرضی یا چوری شدہ دستاویزات کے سہارے موبائل سم حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
اب نیا سم کیسے ملے گا؟
نئے قواعد کے مطابق سم خریدتے وقت صارفین کو سخت ویریفیکیشن کے عمل پر عمل کرنا ہوگا۔ جن کے پاس آدھار ہے، وہ بایومیٹرک ای-کے وائی سی (e-KYC) کرانے کے بعد ہی سم لے سکیں گے۔ آپ کو اپنے فنگر پرنٹ کے ذریعے اپنی شناخت ثابت کرنی ہوگی۔ جن صارفین کے پاس آدھار نہیں ہے یا کسی جسمانی چوٹ یا معذوری کی وجہ سے فنگر پرنٹ اسکین نہیں ہو پا رہا ہے، انہیں درست دستاویزات کے ساتھ چہرے کا لائیو اسکین یعنی ڈیجیٹل-کے وائی سی (D-KYC) کرانی ہوگی۔ ویریفیکیشن مکمل ہونے کے بعد صارف کو ویریفیکیشن کے لیے الرٹ بھی بھیجا جا سکتا ہے۔
نام تبدیل کرنا ہو یا سم ٹرانسفر، ہر کام کے لیے بایومیٹرک ضروری
یہ ضابطے صرف نیا سم لینے تک محدود نہیں ہیں۔ اگر آپ پرانا سم اپ گریڈ یا ری پلیس کرا رہے ہیں، نام، جنس یا تاریخ پیدائش میں تبدیلی کر رہے ہیں تو دوبارہ بایومیٹرک ویریفیکیشن کرانا ہوگا۔ اس کے علاوہ اب آپ اپنا فعال سم کسی تیسرے شخص کو یوں ہی نہیں سونپ سکتے۔ سم ٹرانسفر کی اجازت صرف قریبی رشتہ دار یا قانونی وارث کو ہی ملے گی۔ اس کے لیے بھی مکمل بایومیٹرک جانچ ہوگی۔ کسی کمپنی یا کاروبار کے نام پر سم جاری ہونے کی صورت میں مجاز نمائندے کے ساتھ ساتھ سم کا حقیقی استعمال کرنے والے ’اینڈ یوزر‘ کی شناخت بھی درج کی جائے گی۔
فراڈ کیا تو سیدھا جیل، دکانداروں پر بھی پابندی
ضابطے کو نظر انداز کرکے فرضی دستاویزات لگانے یا غلط معلومات دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی اور ٹیلی کام آپریٹر کو فوری طور پر پولیس میں ایف آئی آر درج کرانی ہوگی۔ قواعد کی خلاف ورزی پائے جانے پر کنکشن فوراً معطل یا منقطع کر دیا جائے گا۔
دکان پر ڈیٹا اسٹور نہیں ہوگا
صارفین کی پرائیویسی کا خیال رکھتے ہوئے سم فروخت کرنے والے دکانداروں (Point of Sale) کو صارف کا کوئی بھی بایومیٹرک ڈیٹا اسٹور کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو تین ماہ کے اندر اپنا سسٹم مکمل طور پر محفوظ اور اپ گریڈ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔