سر سید اسکول سیکولر بنیاد پر قائم کیے جائیں گے : جنرل ضمیر الدین شاں

02:41PM Sun 16 Oct, 2016

مسلم طلباء مقابلہ جاتی امتحانات میں شریق ہوں: برگیڈیئر سید احمد علی سرسید بڑے مصلح قوم تھے: گوپال داس نیرج قومی ماہنامہ دا علی گڑھ موومینٹ کے ز یرِ اہتمام سرسیدکے199ویں یومِ پیدائش پر قومی سیمینار کا انعقاد علی گڑھ15؍اکتوبر: سیمینار کے مہمانِ خصوصی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ( ریٹائرڈ) نے کہا کہ سرسید احمد خاں نے علی گڑھ تحریک کا آغاز کیا تھا اور اس تحریک کو جاری رکھتے ہوئے قوم کے ہر فرد تک تعلیم کی روشنی پہنچانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آل انڈیا مسلم تعلیمی کانفرنس نے علی گڑھ موؤمنٹ کو تقویت دی تھی ہم چاہتے ہیں کہ یہ تحریک دوبارہ شروع ہو سرسید کی مہم تبھی کامیاب ہوگی جب کہ ادارہ قائم ہونگے ۔ انھوں نے مدارس کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اب مدرسوں کی جدید کاری کی ضرورت ہے مدارس میں مذہبی تعلیم کے ساتھ انگریزی اور دیگر مضامین کی تعلیم کا بندوبست کیا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ مدارس کے طلباء اے ایم یو کے برج کورس کے ذریعہ اپنے مستقبل کو تابتاک بنارہے ہیں انھیں مختلف یونیورسٹیوں میں اچھے کورسیز میں داخلے مل رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سیکولر بنیادوں پر سرسید اسکول کھولے جارہے ہیں جن میں سے ایک مظفرنگر میں کھولا جا چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے بارے میں جاننا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے اندر اگر قابلیت ہے تو ان کے ساتھ کوئی تعصب نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے والدین سے اپنی لڑکیوں کو اچھی تعلیم سے آراستہ کرنے کی تلقین کی۔ مہمانِ اعزازی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر برگیڈیئر سید احمد علی( ریٹائرڈ) نے کہا کہ سرسید کے خواب کو شرمندہ تعبیرکرنے کے لیے نئے ادارے قائم کرنے ہونگے اب طلباء پڑھنے کے لیے تیار ہیں لیکن انھیں داخلے نہیں مل پارہے ہیں سرسید کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو انگریزی پر عبور حاصل کرنا چاہئے اسی کے ذریعہ ان کا مستقبل تابناک ہوسکتا ہے۔ یہ آج بھی اتنا ہی ضروری ہے کیونکہ مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے انگریزی پر عبور حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ زندگی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے محنت اور محنت محض ہی آپ کی کوششوں کو کامیاب بنائیں گے۔انھوں نے کہا کوالٹی ماڈرن ایجوکیشن کے لیے ہم آپ کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے بھی ہم نے کام کیا ہے۔ ممتاز شاعر اور اترپردیش بھاشا سنستھان کے صدر پدم بھوشن گوپال داس نیرج نے کہا کہ طلباء میں سائنسی سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طلباء اپنے مستقبل میں کامیابی کا زینہ آسانی کے ساتھ طے کرسکیں۔انھوں نے سرسید احمد خاں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں قوم و ملت کا عظیم رہنما قرار دیا۔ گوپال داس نیرج نے اس موقع پر اپنے گیتوں کے بند پیش کرکے زندگی کے فلسفے کو بیان کیا اور کہا کہ انسان کی زندگی میں ’کرم‘ سے ہی خوشیاں آتی ہیں۔ اس سے قبل مہمانان کا خیر مقدم کرتے ہوئے سیمینار کے کنوینر اور قومی ماہنامہ دا علی گڑھ موومینٹ کے مدیرِ اعلیٰ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ سرسید نے1875میں ایم اے او کالج کی بنیاد ڈال کر جس تعلیمی مشن کا آغاز کیا تھا کیا وہ نوجوان نسل کو فائدہ بخش رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف رینکنگ ایجنسیوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ٹاپ کی رینکنگ دی ہے اور یہی نہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اپنے کیمپس کے باہربھی اسکولوں کے قیام میں کامیاب رہی ہے لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ ہم آج بھی سرسید کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس موقعہ پر قومی ماہنامہ دا علی گڑھ موومینٹ کی جانب سے گوپال داس نیرج اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے ادب کے میدان میں معروف قلم کارہ ڈاکٹر نمیتا سنگھ اور تعلیمِ نسواں کے میدان میں پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی کو سرسید ایکسیلینس ایوارڈ۔2016سے سرفراز کیا۔ اس موقعہ پر گوپال داس نیرج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ اورپرو وائس چانسلر برگیڈیئر سید احمد علی نے ڈاکٹر جسیم محمد کی تصنیف کردہ کتاب’’ سرسید احمد خاں اور علی گڑھ موومینٹ کا اجراء بھی کیا۔ اسی کے ساتھ ڈاکٹر جسیم محمد کی تیار کردہ دستاویزی فلم پر مبنی سی ڈی’’ یہ میرا چمن‘‘ کا اجراء کیا جس کی پروگرام کے دوران نمائش بھی کی گئی۔ پروگرام میں مہمانان کو یادگاری نشانات اور شال سے سرفراز کیاگیا۔ اس کے علاوہ سرسید مضمون نویسی مقابلہ2016کے فاتحین کو انعامات اور شرکائے مقابلہ کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ پروفیسر محمد شبیر نے سیمینار کے موضوع سے متعارف کرایا جبکہ’’ سوچ‘‘ تنظیم کے صدرڈاکٹر سلیم محمد خاں، یونیورسٹی انجینئر پروفیسر انور خورشید، اے ایم یو کی ایکزیکیوٹو کونسل کے سابق رکن ڈاکٹر محمد شاہد اور اے ایم یو کورٹ کے رکن پروفیسر ہمایوں مراد ،ڈاکٹر نمیتا سنگھ اور پروفیسر ذکیہ اطہر صدیقی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر شیریں مسرور اور ڈاکٹر محمد فرقان سنبھلی نے بحسن خوبی نے انجام دئے جبکہ ڈاکٹر دولت رام نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پرصبیحہ سیمی شاہ، اے ایم یو آرٹ فیکلٹی کے ڈین پروفیسر شیخ مستان، فائنس آفیسر ایس ایم جاوید اختر، معروف فلم ایکٹر میجر علی شاہ ، محسن حسن، مشتاق صدف، دیبا ابرار ، ڈاکٹر فاطمہ زہرہ، ڈاکٹر جی ایف صابری، محمد دلشاد، عمار خاں، محمود انصاری، اجو، شاہد اور اقبال سیفی وغیرہ بھی موجود رہے۔