تعلیمی معیار میں بہتری کے بغیر آر ٹی ای ضابطوں میں تبدیلی کار گر نہیں
01:02PM Sat 30 Mar, 2019
بنگلور۔30؍مارچ(سالار) سرکاری اسکولوں میں داخلوں کی تعداد کو بڑھانے کے لئے ریاستی حکومت نے آر ٹی ای کا سہارا لیا اور اس کے ضابطوں میں ترمیم کے ذریعہ آر ٹی ای کے ذریعہ داخلوں کو سرکاری اسکولوں کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔ ریاست میں آر ٹی ای کے ذریعہ داخلوں کا آغاز ہو چکا ہے مگر پچھلے سالوں کے مقابلہ میں اس سال لوگوں میں اس تعلق سے کچھ زیادہ جوش نہیں دیکھا جا رہا ہے اور اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل نہیں کرانا چاہتے کیونکہ اس سرکاری اسکولوں کے تعلیمی معیار میں کچھ خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں بچوں کے داخلوں میں کمی کے لئے خاص طور پر ان اسکولوں میں تعلیمی معیار کی پستی کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور ریاستی حکومت کی طرف سے اس بات کی کئی کوششیں ہوتی رہی ہیں کہ ان اسکولوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے، جس کے نتیجہ میں محکمہ برائے تعلیم کو اس بات کی امید تھی کہ ان اسکولوں میں بچوں کے داخلوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔تعلیمی ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ اگر سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار بہتر ہو جائے تو یقینی طور پر والدین اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں روانہ کرنے کو ترجیح دیں گے۔محکمہ برائی تعلیمات عامہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ معاشرہ نے تعلیمی اداروں کی تقسیم کر رکھا ہے اور اس میں سرکاری اسکولوں کو غریب طبقہ کے لئے، امدادی اسکولوں کو درمیانی طبقہ کے لئے اور خانگی اسکولوں کو مالدار طبقہ کے لئے قرار دے دیا گیا ہے۔مختلف پروگراموں کے ذریعہ محکمہ یہ چاہتا ہے کہ ہمارے سرکاری اسکول خانگی اسکولوں کا مقابلہ کر سکیں اور ان کے تعلیمی معیار میں ترقی ہو، ہم امید کرتے ہیں کہ گزرتے سالوں کے ساتھ ہمیں بہتر نتائج حاصل ہونگے اور اسی کے ساتھ آنے والے تعلیمی سال میں سرکاری اسکولوں میں داخلوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا، عام عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں سرکاری اسکولیں بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کریں اور اس کے بعد ہی وہ اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخل کرانے پر غور کر سکتے ہیں۔