فرینک اینڈ ڈیبی اسلام منیجمنٹ کامپلیکس کا افتتاح
12:51PM Mon 13 Feb, 2017
علی گڑھ، (بھٹکلیس نیوز)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نو تعمیر شدہ فرینک اینڈ ڈیبی اسلام منیجمنٹ کامپلیکس کاافتتاح آج امریکہ مقیم تاجر و سماجی خدمتگارڈاکٹر فرینک ایف اسلام نے ایک پر وقار تقریب میں کیا۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ اور پرووائس چانسلر برگیڈیئر سید احمد علی بھی تقریب میں موجود تھے۔متعدد سہولیات سے آراستہ اس منیجمنٹ کامپلیکس کے پہلے مرحلے کی تعمیر 20کروڑ روپئے کی لاگت سے سرسید ہاؤس کے نزدیک تین ایکڑ وسیع قطعۂ آراضی میں کی گئی ہے ۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فرینک اسلام نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ اور کامپلیکس کی تعمیر سے وابستہ دیگر شخصیات کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔ نیو منیجمنٹ کامپلیکس کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مرکز میں انٹرپرینیورشپ کے فروغ پر بنیادی زور رہے گا اور یہاں کے طلبہ کو تجارت و کاروبار میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لئے تیار کیا جائے گا جو اپنی معاشی و تجارتی سرگرمیوں کے ذریعہ ملک و بیرون ملک نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس منیجمنٹ کامپلیکس سے مستقبل کے لیڈر پیدا ہوں گے جو ہندوستان اور دنیا کو انسانوں کے لئے بہتر بنائیں گے۔ وہ محض منیجر اورایکزیکیوٹیو کے بجائے لیڈر بنیں گے اور جدید طرز کے کاروباری نظام اور روابط کو فروغ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد لیڈرشپ کو فروغ دینا ہونا چاہئے، ملازمانہ ذہن پیدا کرنا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مقصد نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک امریکی کہاوت ہے کہ منیجرس چیزوں کو اچھی طرح سے انجام دیتے ہیں لیکن لیڈرس اچھی چیزیں پیدا کرتے ہیں۔ڈاکٹر فرینک اسلام نے اپنے خطاب میں طلبہ و اساتذہ کی متحرک کرنے والے خیالات سے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ کسی چیز کی کوئی حد نہیں ہوتی، اگر آپ اس کو متصور کرسکتے ہیں اور اور اس پر یقین رکھتے ہیں تو آپ اسے حاصل بھی کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر فرینک اسلام نے یونیورسٹی کی ترقی میں حصہ لینے کے لئے ابنائے قدیم کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے ہزاروں فارغین دنیا کے سو سے زیادہ ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اورزندگی کے مختلف شعبوں میں سرگرم عمل ہیں ، لیکن ان کے اندر ایک بات قدر مشترک ہے کہ وہ تکنیکی مہارت رکھتے ہیں اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کے علمبردار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ا سی وجہ سے یہاں کے طلبہ دنیا میں اپنی علاحدہ شناخت قائم کرنے اور دوسروں کے لئے رول ماڈل بننے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ڈاکٹر فرینک اسلام نے اس تعمیری پروجیکٹ میں تعاون کے لئے جناب امیر احمد، ڈاکٹر ندیم ترین، پروفیسر پرویز طالب، ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ اور جناب سید علی رضوی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اس موقعہ پر اپنے خطاب میں وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ ابتدا میں لوگ اس منیجمنٹ کامپلیکس کے بارے میں یقینی نہیں تھے لیکن جب ان کی ملاقات ڈاکٹر فرینک اسلام سے ہوئی تو انہیں لگا کہ ان کا یہ خواب حقیقت میں ضرور تبدیل ہوگا اور اللہ کا شکر ہے کہ آج یہ خواب شرمندۂ تعبیر ہو چکا ہے۔ اس موقعہ پر انہوں نے اعلان کیا کہ ممتاز الُمنس مسٹر ندیم ترین نے اس بات پر اپنی رضامندی ظاہر کی ہے کہ وہ اس منیجمنٹ کامپلیکس کے دوسرے مرحلے کی تعمیر کی ذمہ داری اٹھائیں گے۔ یہ محض ایک بڑے سفر کی شروعات ہے جس کے تحت یونیورسٹی کیمپس میں بڑی تبدیلیاں واقع ہوں گی۔وائس چانسلر نے کہا کہ انہوں نے تمام ابنائے قدیم کو یقین دلایا ہے کہ ان کا عطیہ کردہ روپیہ یونیورسٹی کی تعمیر و ترقی میں ہی خرچ کیا جائے گا۔ اے ایم یو الُمنس اور مانپّت گروپ کے چےئرمین ڈاکٹر امیر احمد نے کہا کہ یہ منیجمنٹ کامپلیکس یونیورسٹی کے نئے ترقیاتی دور کا سنگ اول ہے اور اس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پروجیکٹ کو کامیابی کی منزلوں تک پہنچانے کا سہرا وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ کے سر جاتا ہے۔جامعہ ملیہ میں رفیع احمد قدوائی چےئر کے سابق پروفیسر ڈاکٹر آباد احمد نے کہا کہ منیجمنٹ کامپلیکس کا افتتاح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ میں ایک اہم اضافہ ہے اور یہاں سے مستقبل کے قائد پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ملک میں اس نوع کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی جہاں کے ابنائے قدیم نے ایسی خطیر رقومات دے کر اپنی مادرِ علمی کی ترقی میں براہ راست حصہ لیاہو۔اپنے خطاب میں ڈاکٹرفرینک اسلام کی مثال پیش کرتے ہوئے امریکہ سے تشریف لائے ڈاکٹر سید علی رضوی نے کہاکہ ڈاکٹر فرینک اسلام امریکہ میں بھی اپنی سماجی خدمات کی وجہ سے کافی مقبول ہیں اور جان ایف کنیڈی سینٹر فار پرفارمنگ آرٹ، بروکلن انسٹی ٹیوٹ، وُڈروولسن سینٹر، جان ہاپکِنس یونیورسٹی اور جارج میسن یونیورسٹی کے ایڈوائزری بورڈ اور کونسل کے ممبر ہیں۔ پروفیسر پرویز طالب نے اپنے استقبالیہ خطبہ میں کہا کہ سر سید نے تعلیم کی قوت کو بھانپ لیا تھا ور انہیں یقین تھا کہ تعلیم سے قوم و ملت کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ یہ منیجمنٹ کامپلیکس ان کے اسی یقین کا نتیجہ ہے۔ منیجمنٹ فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ولید اے انصاری نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ وائس چانسلر نے ڈاکٹر فرینک اسلام کو یادگاری نشان پیش کیا۔ اس موقعہ پر ہمالیہ گروپ کے صدر ڈاکٹر ایس فاروق، ڈاکٹر ندیم ترین، ڈاکٹر عبداللہ عبد اللہ، رجسٹرار پروفیسر جاوید اختر، فائنس افسر پروفیسر ایس ایم جاوید اختر،الانہ گروپ کے مسٹر جنید خان اور یونیورسٹی کے افسر رابطہ عامہ مسٹر عمر پیرزادہ بھی موجود تھے۔ڈاکٹر فرینک اسلام کے نمائندے مسٹر توقیر شیروانی نے بتایا کہ منیجمنٹ کامپلیکش میں علاحدہ ایڈمنسٹریٹیو بلاک، اکیڈمک بلاک، لائبریری، ایمفی تھئیٹر اور دو لیکچر ہال موجود ہیں۔ ہر لیکچر ہال میں 80افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس کے علاوہ تین کلاس روم اور طالبات کے لئے ایک کامن روم ہے جس میں سے ہر ایک میں 40افراد کی گنجائش ہے۔ بعد میں ڈاکٹر فرینک اسلام نے ریزیڈینشئل اکیڈمی کا دورہ کیا جہاں ان کی کتاب ’’فرینکلی اسپیکنگ‘‘ کی رونمائی کی گئی۔ اس موقعہ پر بطور صدر وائس چانسلر اور مہمان اعزازی کے طور پر پرووائس چانسلر برگیڈیئر سید احمد علی بھی موجود تھے۔آر سی اے کے ڈائریکٹر پروفیسر کلیم الدین احمد نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور مسٹر سعد حمید نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔