رام جیٹھ ملانی نے کلکتہ ہائی کورٹ جج کرنن کو تنازعہ کو ذات پات کا رنگ نہ دینے اور معافی مانگنے کا مشورہ دیا
12:14PM Tue 14 Mar, 2017
نئی دہلی، (بھٹکلیس نیوز)سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے کلکتہ ہائی کورٹ کے جج سی ایس کرنن کو خط لکھ کر مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی غلطی مان کر معافی مانگ لیں اور معاملے کو ذات پات کا رنگ نہ دیں۔انہوں نے عوامی خط میں لکھا ہے کہ انہوں نے ان سے کبھی ملاقات نہیں کی ہے لیکن انہیں لگتا ہے کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔انہوں نے جج سی ایس کرنن کو کہا کہ وہ ایسا نہ کریں ،کیونکہ ان کے جیتنے کی کوئی امید نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بار کے سینئر رکن ہونے کے ناطے وہ انہیں مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ ہروہ لفظ جو انہوں نے کہا ہے واپس لے لیں اور عاجزانہ انداز میں ہر حماقت کے لیے معافی مانگ لیں ۔جیٹھ ملانی نے جج کو ان سے ملاقات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک عدالتی نظام ہی ہے جو بدعنوانی میں ملوث ہونے سے بچا ہوا ہے، اس کو کمزور اور برباد نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ وہ جو کر رہے ہیں وہ پسماندہ ذات کے مفادات کے خلاف ہے۔قابل ذکر ہے کہ 23؍جنوری کو جسٹس سی ایس کرنن نے وزیر اعظم کو خط لکھ کرسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے موجودہ 20ججوں کی فہرست بھیجی تھی اور بدعنوانی کے الزام لگاتے ہوئے جانچ کامطالبہ کیا تھا ۔سپریم کورٹ نے اس پر نوٹس لیتے ہوئے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا تھااور عدالت میں پیش نہ ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ کے 7ججوں کی بنچ نے پہلی بار ہائی کورٹ کے کسی موجودہ جج کے خلاف وارنٹ جاری کیا تھا۔سی ایس کرنن کو 31؍مارچ کو سپریم کورٹ میں پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی ، کلکتہ ہائی کورٹ کے جج نے سپریم کورٹ کے ججوں پر الزام لگاتے ہوئے کہاتھا کہ دلت ہونے کی وجہ سے ان کو کام کرنے سے روکا جا رہا ہے،یہ ذات سے جڑا معاملہ ہے اور ظلم ہے۔