لوکپال کی تقرری میں ہورہی تاخیرکولے کر'کامن کاز' نام کی ایک غیرسرکاری تنظیم (این جی او) نے سپریم کورٹ میں پی آئی ایل دائرکی تھی۔ عرضی گزارکی طرف سے پیروی کررہے سینئرایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے عدالت میں اپیل کی تھی کہ حکومت کو جلد ازجلد لوکپال کی تقرری کا حکم دینا چاہئے۔
سات مارچ کو پی آئی ایل پرسماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) رنجن گوگوئی کی قیادت میں بینچ نے مودی حکومت سے لوکپال کی تقرری کولے کرہورہی تاخیرکی وجہ پوچھا تھا۔ بینچ نے 15 دن کے اندرحکومت کوجواب دینے کوکہا تھا۔ اس سے قبل 17 جنوری کو ہوئی سماعت میں عدالت نے لوکپال کی تقرری میں تاخیرکولے کرمرکزی حکومت کو پھٹکار بھی لگائی تھی۔ کانگریس کے سینئرلیڈر ملکا ارجن کھڑگے نے بھی دو دن پہلے لوکپال کی تقرری کولے کرحکومت کو ساتویں بارخط لکھا ہے۔
ملک کے پہلے لوکپال بنیں گے سپریم کورٹ یہ سابق جج، اعلان کل ہوگا: ذرائع
12:17PM Sun 17 Mar, 2019
سپریم کورٹ کے سابق جج پناکی چندرگھوش (پی سی گھوش) کا نام ملک کے پہلے لوکپال کے طورپرفائنل کرلیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیرکوسرکاری طورپراس کا اعلان کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس پی سی گھوش حالیہ وقت میں قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آرسی) کے رکن ہیں۔
جسٹس پی سی گھوش 27 مئی 2017 کو سپریم کورٹ سے ریٹائرہوئے تھے۔ سپریم کورٹ سے پہلے وہ کولکاتا ہائی کورٹ کے جج اورآندھرا پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ اب وہ ملک کے پہلے لوکپال بننے جارہے ہیں، جس کا صرف حتمی اعلان ہونا باقی ہے۔
واضح رہے کہ بدعنوانی کے معاملوں پرایک آزاد اورمضبوط ادارہ قائم کرنے کے لئے سال 2013 میں لوکپال اورلوک آیکت بل پاس کیا گیا تھا۔ 16 جنوری 2014 کو یہ بل نافذ ہوا تھا۔ حالانکہ مرکزکی مودی حکومت پانچ سال کے مدت کارمیں لوکپال کی تقرری نہیں کرپائی۔