فلسطینیوں کی جبری بے دخلی عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے:بان کیمون

03:51PM Wed 19 Aug, 2015

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مقبوضہ بیت المقدس کے عرب شہریوں کی جبری بے دخلی، مکانات مسماری اور ان کی جگہ یہودی آباد کاری کو عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قراردیا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بان کی مون کی خاتون ترجمان فانینا ماسٹراسی نے منگل کو نیویارک میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور ان کے مکانات کی مسماری پر گہری تشویش ہے اور وہ اسے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قراردیتے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز کی جانب سے بیت المقدس کے قریب واقع سیکٹر C میں فلسطینی قبائلی شہریوں کے مکانات کو مسمار کرنا اوران کی اراضی پرغاصبانہ قبضہ کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ طاقت کے ذریعے فلسطینیوں کی ان کے آبائی علاقوں سے دوسرے علاقوں میں نقل مکانی آئین اور قانون کی رو سے قطعی ناجائز ہے۔ فلسطینیوں کی جبری منتقلی کے معاملے میں اسرائیلی ریاست طاقت کا استعمال کرکے بین الاقوامی قوانین کے ساتھ مذاق کررہی ہے۔ بان کی مون کی ترجمان نے مزید کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر راربٹر پییر اور غرب اردن میں پناہ گزینوں کی بہبود کے ادارے"اونروا" کے ڈائریکٹر آپریشنز فیلپ سانشیز نے بھی فلسطینیوں کی جبری بے داخلی اور ان کے مکانات کی مسماری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے فلسطینیوں کی نقل مکانی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس کے قریب فلسطینی بدئوں کے 22 مکانات کو مسمار کیا جس کے نتیجے میں 78 افراد مکان کی چھت سے بھی محروم ہوگئے۔ بے گھر ہونے والوں میں 49 کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔