ریاستی حکومت کی یک طرفہ کارروائی سے خانگی طبی اداروں میں ناراضگی کی لہر

01:53PM Fri 3 Nov, 2017

بنگلور۔3نومبر(ذرائع )انڈین میڈیکل اسوسیشن (آئی ایم اے) نے کرناٹک خانگی طبی ادارہ جات مسودہ قانون کے خلاف احتجاج کے لئے نومبر کی تین تاریخ کو عمومی ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے آج ریاست بھر کے تمام خانگی اسپتالوں میں آؤٹ پیشنٹ کے شعبے کام انجام نہیں دیں گے اور پورا دن بند رہیں گے، البتہ ہنگامی حالات اور حادثات سے متعلق شعبہ جات کو جاری رکھا جائے گا۔خانگی اسپتالوں اور نرسنگ ہومس کی انجمن (فانا) کے سکریٹری ڈاکٹر آر رویندرا نے بتایا کہ ’’ہم نے کرناٹک خانگی طبی ادارہ جات مسودہ قانون میں بعض ترمیمات کا مطالبہ کیا تھا لیکن جائنٹ سیلکٹ کمیٹی نے ان پر غور نہیں کیا ہے، اسی اقدام کی مخالفت میں آج کا یہ بند منایا جا رہا ہے‘‘۔ملیشورم حلقہ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر اشوتھ ناراین ، جو کہ مذکورہ جائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے رکن تھے نے بتایا کہ کمیٹی نے حکومت کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی ہے کہ مذکورہ مسودہ قانون کو زیادہ شفاف اور قابل قبول بنانے کے لئے اس میں خانگی اسپتالوں کے ساتھ سرکاری اسپتالوں کو بھی شامل کیا جائے، اس کے علاوہ بعض ترمیمات کو ہلکا کرنے کی بھی تجویز پیش کی گئی ہے ، لیکن انہوں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ حکومت ان تجاویز کو قبول کرے گی یا نہیں۔ طبی برادری زبردست احتجاج:البتہ مذکورہ ’’یکطرفہ مسودہ قانون‘‘ کے ،طبی برادری پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، شہر کے کئی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ اب ہنگامی حالات میں مریضو ں کا علاج کرنے سے گھبرارہے ہیں اس کے علاوہ طلباء اور ان کے والدین اس مقدس پیشہ میں اب آہستہ آہستہ دلچسپی کھوتے جا رہے ہیں۔بلاری ضلع کی ایک خانگی اسپتال میں زچگی کی ماہر ڈاکٹر شراونتی پی نے کہا کہ’’یہ مسودہ قانون طبی برادری کے لئے ایک بھاری نقصان ہے اور اس کے بعد کسی کی جان بچانے کے سلسلہ میں کسی طرح کا خطرہ مول لینے سے قبل ڈاکٹروں کو دو بار سوچنا پڑے گا۔اگر یہ مسودہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو مریض ڈاکٹروں کی طرف سے مناسب توجہ حاصل کرنے سے محروم ہو جائیں گے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ’’ان دنوں ڈاکٹروں کو اپنے مریضوں کی طرف سے مناسب احترام حاصل نہیں ہو رہا ہے اور اب حکومت نے بھی ان کی طرف حقیر نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔پیشہ وارانہ عظمت میں تنزل کے پیش نظر نوے فیصدی ڈاکٹر اب یہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچے طبی میدان کا انتخاب کریں‘‘۔کئی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی اسپتالوں میں ہر ماہ کم از کم ایک ایسے مریض ضرور آتا ہے جو وہاں سرجری کے بعد ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرتا، اس صورت حال میں حکومت کی جانب سے قیمتوں کا تعیین حالات کو مزید ابتر بنا سکتا ہے۔پچھلے دنوں شہر کے راستوں پر دسیوں خانگی اسپتالوں کے ڈاکٹروں اور نرسوں نے اس مسودہ قانون کے خلاف زبر دست احتجاج کیا تھا، اس احتجاج میں شامل ایک ڈاکٹر نے کہا کہ’’جہاں میں ہمیشہ اپنے پیشہ کو مقدس تصور کرتا رہا اور اسے اپنی مکمل اور مخلصانہ توجہات دینے کی کوشش کرتا رہا ہوں وہیں اس مسودہ قانون نے ہمیں کاروباری افراد میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔کسی پریشان حال مریض کو جو علاج فراہم کیا جاتا ہے اسے پیسوں کے بل پر تولا نہیں جا سکتا اور نا ہی اس بنیاد پر کہ وہ کسی خانگی اسپتال کے ڈاکٹر کی طرف سے ہے یا سرکاری ڈاکٹر کی طرف سے، بلکہ مریض کو جس معیار کی توجہ اور ہمدردی حاصل ہوتی ہے وہی اصل بنیاد ہوتی ہے۔ہم اپنی تعلیم پر اتنا سارا روپیہ خرچ کرتے ہیں اور یہ پیسہ کمانے کے لئے نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کرنے کے لئے ہوتا ہے۔عوام اور حکومت کو چاہئے کہ اس بات کو سمجھیں اور نجی طبی برادری کا حوصلہ توڑنے کا کام نہ کریں‘’۔ سرکاری اسکیموں کے تحت سرجری نہیں ہوگی:ناراین ہیلتھ کے بانی اور چیر مین ڈاکٹر دیوی شیٹی نے اس مسودہ قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ’’پچھلے کچھ سالوں سے ہر ایک سیاست دان اور قانون سازی کرنے والا شخص خانگی شعبہ کے ڈاکٹروں پر اعتراضات کرتا رہا ہے اور ان تمام سالوں میں ہم لوگ ان سے معذرت خواہی کرتے اور اپنی غلطیوں کو تلاش کرتے رہے ہیں،لیکن ان کے خلاف کوئی لفظ نہیں کہا ہے۔ہر مہینہ کوئی نہ کوئی ایسا قانون ضرور لایا جاتا ہے جو ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے، یہ صورت حال اسی طرح اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ پوری طبی برادری یک جٹ ہو کر اس کے خلاف آواز بلند نہیں کرتی۔جب تک حکومت خانگی طبی اداروں کے سلسلہ میں اپنے رویہ میں تبدیلی پیدا نہیں کرتی ہم لوگ سرکاری صحت اسکیموں کے تحت کوئی سرجری انجام نہیں دیں گے‘‘۔ قیمتوں کا تعیین اس شعبہ کی ترقی میں بے اعتدالی پیدا کردے گا:منی پال اسپتال کے چیرمین ڈاکٹر سدرشن بلال کا کہنا ہے کہ’’مذکورہ مسودہ قانون میں بعض نکات ایسے ہیں جو یقیناً عوام کے لئے مفید ہو سکتے ہیں، ہنگامی حالات میں رقم جمع کرنے کا مطالبہ کئے بغیر مریضو ں کا علاج شروع کردینا، ایک بہترین اقدام ہے،لیکن مختلف آپریشنوں اور علاج کی قیمتوں کا تعیین قابل بحث بات ہے اور یہ چیز صرف آپسی تبادلہ خیال کے بعد ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ہمیں حکومت کی جانب سے ابھی اس سلسلہ میں کوئی واضح بات نہیں معلوم ہوئی ہے کہ وہ کس طرح کی قیمتوں پر غور کر رہی ہے۔کسی بھی اسپتال میں قیمتوں کا انحصار وہاں کے بنیادی ڈھانچہ اور میسر سہولیات کی بنیاد پر ہوتا ہے اور ہر ایک کے لئے یکساں قیمتوں کا تعیین ، اس شعبہ کی ترقی میں بے اعتدالی پیدا کر سکتا ہے۔قیمتوں کا تعیین نہیں ہو سکتا اس لئے کہ انفرادی طریقہ علاج بھی مختلف ہوتا ہے اور انفرادی رد عمل بھی مختلف ہو تا ہے‘‘۔ عوامی تنظیموں کی طرف سے قانون کا خیر مقدم:واضح رہے کہ ریاستی حکومت کی وزارت صحت کی جانب سے کچھ ماہ قبل اسمبلی میں پیش کردہ متنازعہ ’’کرناٹک خانگی طبی ادارہ جات (ترمیمی) بل 2017 ‘‘ کو غیر منافع بخش تنظیموں اور معاشرہ کے مختلف طبقات کی نمائندگی کرنے والے ملازمین کے اداروں کی طرف سے زبر دست حمایت حاصل ہوئی ہے۔اس مسودہ قانون کی حمایت کرنے والوں نے ریاست کے تمام ارکان اسمبلی کو ایک خط تحریر کیا تھا ، جس میں ان سے گذارش کی گئی کہ اس مسودہ قانون کی جلد منظوری کو یقینی بنایا جائے تاکہ خانگی اسپتالوں کی طرف سے بھاری قیمتیں وصول کئے جانے جیسے معاملات پر روک لگائی جا سکے۔کرناٹک جنا روگیا اور کرناٹک جنا شکتی، صفائی کرمچاری کاولو سمیتی، سوراج ابھیان، کرناٹک سیکس ورکرس یونین، کرپشن فری کرناٹک، غیر سرکاری تنظیم سنگما اور دوسرے اداروں اور انجمنوں کی جانب سے تحریر کردہ خط میں لکھا گیا تھا کہ’’خانگی اسپتالوں میں قیمتوں پر قابو پانا، مریضوں کے حقوق کا تحفظ اور ضلعی سطح پر سیول کورٹ کی جانب سے مجاز کردہ انجمنوں میں شکایات درج کرنے کے سلسلہ میں مریضوں کو سہولیات کی فراہمی وغیرہ اس مسودہ قانون کے اہم نکات ہیں۔یہ مسودہ قانون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ خانگی اسپتالیں ہنگامی حالات میں اور مریض کی موت کے بعد اس کی میت رشتہ داروں کے حوالے کرنے کے وقت بھاری رقموں کا مطالبہ نہ کرسکیں‘‘۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ خانگی اسپتالوں میں رقم وضع کرنے اور کمیشن حاصل کرنے کے ذریعہ مریضوں سے بھاری پیسہ وصول کرنے کے سلسلہ پر روک لگانے کے ذریعہ ان اسپتالوں میں ذمہ داری کے احساس کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔مذکورہ تنظیموں کی جماعت نے یہ بھی کہا تھا کہ ریاستی حکومت کارپوریٹ اور خانگی اسپتالوں کے دباؤ میں آئے بغیر اس قانون کو نافذ کرے۔