ٹیپو سلطان کے خواب ڈرامہ میں سلطان پر بہتان طرازی

04:08AM Fri 14 Jul, 2017

سخت احتجاج کے بعد اردو اکادمی کی طرف سے کتاب واپس لینے کا وعدہ بنگلور(،بھٹکلیس نیوز ) اولین مجاہد آزادی سلطان ٹیپو شہید کی شخصیت ہر دور کے مسلمان ہی نہیں بلکہ انسانوں کے لئے ایک مشعل راہ ہے، وطن سے محبت، آزادی کی حفاظت کے لئے جان، مال اور اولاد سب کچھ قربان کردینے کا جذبہ ایسا تھا کہ دشمن بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں ، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے اپنے سلطان کی شان کو کمتر بناکر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اسی سلسلہ میں کرناٹک اردو اکادمی کی طرف سے شائع کردہ اور ظفر محی الدین صاحب کی طرف سے مرتب کردہ (بقول مرتب یہ صرف کنڑ زبان سے ترجمہ ہے)کتاب ’’ٹیپو کے خواب‘‘ میں سلطان شہید کے تعلق سے جس انداز اور الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے وہ سلطان شہید کی شان میں گستاخی کے مترادف ہیں، کتاب کے صفحہ نمبر سولہ، سترہ اور 69 میں سلطان کی شان میں نہایت نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ نعوذ باللہ سلطان شہید ؒ کے غیر عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے اور ان سے ان کی اولادیں بھی تھیں۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ کتاب اردو اکادمی کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔ اور آج اس کتاب پر مبنی ایک ،رامہ بھی اکادمی کی طرف سے پیش کیا جا رہا ہے۔ ان باتوں کا علم لوگوں میں عام ہونے کے بعد اردو داں طقبہ بالخصوص مسلمانوں میں اور سلطان شہید ؒ سے محبت کرنے والوں میں سخت بیچینی پھیل گئی اور سوشیل میڈیا پر کثرت کے ساتھ اس کے خلاف پیغامات ارسال کئے جاتے رہے اسی دوران تحریک خداداد کے بانی صدر اور سلطان شہید ؒ کے خاندان کے وارث سید منصور صاحب نے ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور جناب تنویر سیٹھ صاحب سے ملاقات کی اور اس کتاب اور ڈرامہ کے خلاف سخت احتجاج درج کرایا، اس کے بعد ایک وفد نے اردو اکادمی کے رجسٹرار سراج صاحب سے بھی ملاقات کی گئی اور تاریخی واقعات کی روشنی میں اور مختلف تاریخی کتابوں کے حوالے سے تمام حقائق ان کے سامنے پیش کئے گئے جس کے بعد موصوف نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اکادمی کی طرف سے اس کتاب کو واپق لینے کا اعلان کیا اور تحریری طور پر اکادمی کے رجسٹرارسراج صاحب اور اور کتاب کے مرتب ظفر محی الدین صاحب کی طرف سے یہ بیان بھی جاری کیا گیا کہ اس کتاب کا تتاریخ سلطنت خداداد اور تاریخی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ محض ایک ادبی کتاب ہے اور اس میں کہانی کو دلچسپ بنانے کے لئے عشقیہ انداز بھی احتیار کیا گیا ہے، تاریخی اعتبار سے اس کا اردو اکادمی یا ریاستی حکومت کے شعبہ برائے اقلیتی امور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔جناب سید منصور صاحب نے رجسٹرار اردو اکادمی سے ملاقات کے بعد ان تفصیلات کو پیش کیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اکادمی نے مذکورہ نامناسب کتاب پر روک لگانے اور اس کو سرکیولیشن سے واپس لینے کا وعدہ کیا ہے۔