سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لئے میڈیا کو اہم رول ادا کرنے کی ضرورت: پربھوچاؤلہ
04:22PM Sat 3 Sep, 2016
نئی دہلی۔ ملک کی موجودہ صورتحال میں سماجی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لئے میڈیا کو اہم رول ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ذرائع ابلاغ کا ایک طبقہ اپنے اصولوں سے بھٹک گیا ہے۔ معروف صحافی پربھولہ چاؤلہ نے آج یہاں کا نسٹی ٹیوشن کلب میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سمپوزیم کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جرنلزم کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ نے جو کچھ دیکھا ہے اور جو سنا ہے وہی میڈیا کے توسط سے عوام کے سامنے پیش کریں۔ لیکن اس برق رفتار دور میں میڈیا کا ایک طبقہ سچائی پیش کرنے کی بجائے اپنے نظریات کی بنیاد پر خبریں دکھاتا اور شائع کرتا ہے، جو ملک کی قومی ہم آہنگی کے لئے سنگین خطرے کی گھنٹی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج میڈیا کا بعض حلقہ پینل ڈسکشن میں ایسے جرنلسٹوں کو ہی شامل کرتا ہے جو اس کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ وارانہ خطوط پر عوام کو تقسیم کرنے کے لئے جتنا سیاستداں ذمہ دار ہیں، اتنے ہی ذمہ دار میڈیا کا ایک طبقہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ہم تقسیم ہوتے رہیں گے ۔ ایسے لوگوں کی دوکانیں چلتی رہیں گی۔ اس لئے ایسے لوگوں کی شناخت کرکے انہیں الگ تھلگ کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ تاکہ ملک میں فرقہ وارانہ خیرسگالی اور قومی ہم آہنگی برقرار رکھی جاسکے۔
مشہور صحافی این سنگھ نے کہا کہ میڈیا کو مثبت اور اچھی چیزوں کو بھی عوام کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ کیونکہ ملک کا ایک بہت بڑا طبقہ ملک میں امن و سکون چاہتا ہے۔ محض مٹھی بھر لوگ اپنی روزی روزٹی اور دوکانیں چلانے کے لئے مذہبی منافرت پھیلانے میں مصروف ہیں، جنہیں بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ ہمیں اپنی مذہبی کتابوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کی کتابوں کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ تمام مذاہب میں انسانیت، قومی و سماجی ہم آہنگی کی تلقین کی گئی ہے۔
ریڈیواینکر نوید نے سمپوزیم کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مٹھی بھر لوگ اپنی دوکانیں چلانے کے لئے مذہبی منافرت پھیلاکر اور اشتعال انگیز باتیں کرکے ملک کی سماجی و قومی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں جنہیں بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے بیشتر عوام امن پسند اور قومی ہم آہنگی کے حق میں ہیں۔
جماعت اسلامی ہند کے جنرل سکریٹری انجینئر محمد سلیم، صحافی ونود شرما اور دیگر اہم شخصیات نے سمپوزیم کو خطاب کیا۔