ایردوآن کا جانا ٹہر چکا ہے: امریکی دانشور کا دعویٰ
03:18PM Fri 3 May, 2019
ترکی میں مارچ کے اواخر میں ہونےوالے بلدیاتی انتخابات نے ملک کی سب سے بڑی جماعت 'آق' اور صدر رجب طیب ایردوآن کے سیاسی مستقبل پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ ترکی کے بڑے شہروں میں صدر طیب ایردوآن کی حمایت، ہمدردی اور مقبولیت میں غیر معمولی کمی آئی ہے، حتیٰ کہ صدر طیب ایردوآن کی مقبولیت ان کے آبائی شہر استنبول میں بھی کم ہو کررہ گئی ہے۔ اسی شہر سے انہوں نے میئر کےعہدے سے اپنی سیاست کا آغاز کیا۔
ترکی میں صدر طیب ایردوآن کے اقتدار کے زوال کے حوالے سے امریکا میں ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر طیب ایردوآن اپنے اقتدار کو مزید طول نہیں دے سکیں گے۔ امریکی ویب سائٹ 'گلوبالیسٹ' میں شائع امریکی دانشور اور محقق الون بن مائیر نے لکھا ہے کہ ترکی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے طیب ایردوآن اور ان کے ٹولے کے اقتدار کے زوال پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ایردوآن اور ان کی جماعت کے لوگوں کا حزب اختلاف پر دھاندلی کا الزام بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انصاف اور ترقی پارٹی کی کارکردگی بہت کمزور ہے۔ ترکی میں موجودہ اقتصادی بحران اس بات کا ثبوت ہے کہ صدر ایردوآن اور ان کی جماعت ملک کو درپیش معاشی بحران سے نمٹنے میں ناکام ہے۔
امریکی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ ترکی میں جاری بحران کی اصل وجہ ایک شخص کا اقتدار پر قبضہ اور تمام ریاستی اداروں کو اپنے زیر نگیں لانے کی پالیسی ہے۔ اس وقت اگر ترکی میں عوام صدر ایردوآن کے خلاف ہیں یا ان سے نالاں ہیں تو اس کی وجہ صدر کی پالیسیاں ہیں اور وہی ان تمام حالات کے ذمہ دار بھی ہیں۔