سرکار بھائی چارہ اور امن قائم رکھنے میں فیل! محمودعلی ایم ایل سی
02:24PM Tue 9 May, 2017
سہارنپور۔(بھٹکلیس نیوز) بہوجن سماج پارٹی کے سربراہ ایم ایل سی محمود علی ایم ڈی نے زور دیکر کہاکہریاست کی موجودہ سرکار تہمت پرستی، فرقہ پرستی اور ہندو مسلمانوں کے بیچ پیدا کی جانیوالی نقصان دہ خلشوں کو روکپانے میں اور آپسی اخوت کے بیچ پیدا ہونے والی دراروں کو بھرنے میں بھی ابھی تک پوری طرح سیناکام ہے گؤ کشی کے نام پر مسلم فرقہ پر حملہ، آذان کے نام پر ہنگامہ، مسجد پر تالہ ڈالنا، سلاٹر ہاؤس کی آڑ میں مسلمانوں کوتنگ اور پریشان کئے جانے جیسے تنازعات سے ماحول کو جان بوجھ کر بگاڑنے کی کوششیں لگاتار جاری ہیں ریاستی سطح پر ہندو مسلم فسادات اور لوٹ پاٹ کی بڑھتی وارداتیں اس سچائی کی ضامن ہیں کہ سرکار بھائی چارہ اور امن قائم رکھنے میں فیل ہوچکی ہے عوام مہنگائی اور خوف کے بھوت کا شکار بناہواہے سہارنپور میں بیس اپریل سے چھہ مئی کے بیچ دوفساد ہوچکے ہیں پولیس انتظامیہ عام لوگوں کا تحفظ کرنے میں مجبور لگ رہی ہے ۔ ایم ایل سی محمود علی ،ایم ڈی نیواضع کیاہیکہآج کا مسلمان حکومت پر بھر و سہ کررہا ہے اسی حکومت پر کہ جس کا خفیہ ایجنڈ مسلمانوں کو ذلیل وخوار کرنے کا ہے اکثر سیاسی جماعتیں اور ، حکومتیں الیکشن کے ایام میں مسلمانوں کی ہمدردی کی بات کرتی ہیں ان کی تعلیمی پسماندگی پر کھڑیال کے آنسو بہاتی ہیں تا کہ ان کا قیمتی ووٹ اپنے پالے میں ڈالا جا ئے لیکنایسی سرکاریں کامیابی کے بعد اپنے خفیہ ایجنڈوں پر گامزن ہو جاتی ہیں اور مسلم قوم کے مسائل بھول جاتی ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ ان سچائیوں کو مسلمان پھر بھول جاتے ہیں اور سچ وجھوٹ کے فرق کو پہچانے بغیر ہی اپنا ووٹ بیکار کرتے رہتے ہیں ۔بہوجن سماج پارٹی کے سربراہ ایم ایل سی محمود علی ،ایم ڈی نے کہاکہ اس لئے آج ضروری ہیکہ مسلمان تعلیم کے میدان بغیر بیسا کھی کے آگے آئیں خد تعلیم حاصل کریں اور اپنے بچوں کو بھی بہتر سے بہتر تعلیم دلائیں تاکہ ہمارے بیچ اختلافات اورتنازعات پیدا کرنیوالے سیاسی لوگ ہمارا بے وقوف بنانے سے باز رہیں ! بہوجن ملک کے ۸۵ فیصد عوام کی نمائندہ جماعت ہے، مخالفین ہماری مقبولیت سے حسد رکھتے ہوئے کچھ بھی کہیں مگر یہ سچ ہے کہ بہوجن سماج پارٹی ہی فرقہ پرستی، کنبہ پروری اور لسانی اختلافات کی سخت مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ سبھی مذہبوں کا احترام کرنیوالی صاف ستھری سیاسی جماعت ہے جو عوام کیلئے اور عوام کی اپنی جماعت ہے ؟ سرکاری تعاون کے بغیر بھی مسلم طبقہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے مگر اس بڑی کامیابی کے لئے ہمکو سخت محنت درکار ہے ، حکومت سے حق لینا ضروری تو ہے لیکن اس پر تکیہ کر کے بیٹھ جانا ہماری غفلت ہوگی ہمکو خد آگے بڑھنا ہوگا۔ آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ جگہ جگہ جلسے جلوس اور سیاست دانوں کے مفاد پرستی پر مبنی پروگراموں میں شامل رہکراپنا قیمتی وقت اور روپیہ خرچ کر تا ہے لیکن اگر اس پیسہ کا کچھ بھی حصہ مسلم اور دبے کچلے طبقہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کی تعلیم پر صرف کیا جا ئے تو ایک بڑا اخلاقی حق ادا ہو سکتا ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ جلسے جلوس کی اہمیت نہیں ہے لیکن اس پر خرچ کی جا نے والی خطیر رقم ہمارے لئے نقصان دہ ہے ! قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ گزشتہ عرصہ کے دوران ضلع کے غریب لوگوں کی آواز سابق ایم ایل سی حاجی محمد اقبال نے ضلع کے پچھڑے علاقہ مرزاپور پول کو اپنی ذاتی جدوجہد اور محنت سے ایجو کیشن ہب بنادیاہے اب یہ پچھڑا علاقہ تعلیم کا سبز مرکز بناہواہے! آپکو بتادیں کہ سابق ایم ایل سی حاجی محمد اقبال وی سی اور انکے چھوٹے بھائی ایم ایل سی محمود علی ،ایم ڈی نے سب سے پچھڑے گھاڑ علاقہ میں اسکول، اسپتال، پانی کے ٹینک، پائپ لائنیں اور روزگار کے ذرائع بناکر جو ملی کام انجام دیاہے وہ ہر نظریہ سے بہتر مانا جائیگا اس دبے کچلے علاقہ میں آج قومی سطح کی مایہ ناز اور جدید علوم سے لبالب گلوکل یونیورسٹی اسی علاقہ کے ہزار بیگھہ علاقہ میں قائم ہے جہاں اپنی طرز کی جدید تعلیم کا منفرد سلسلہ پچھلے پانچ سالوں سے لگاتار جاری ہے یہاں ملک اور بیرون ممالک سے ہر سال سیکڑوں طلبہ کچھ نہ کچھ نئی بات اور نئی ٹیٰکنک سیکھنے آتے ہیں جو اس ضلع کی قریب قریب ۴۰ لاکھ آبادی کے لئے باعث رشک اور باعث عز ت ہے!