بنگلور یونیورسٹی اردو ٹیچرس اسوسی ایشن و کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے اساتذہ کے لئے کامیاب ورکشاپ کا انعقاد
01:58PM Fri 7 Apr, 2017
بنگلور (راست) بنگلور یونیورسٹی کالج اردو ٹیچرس اسوسی ایشن و کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے ’’عصر حاضر میں ڈگری اردو نصاب کی تدوین ایک جائزہ‘‘ کے موضوع پر یک روزہ قومی ورک شاپ بمقام سینیٹ ہال، بروز منگل 4؍ اپریل 2017 منعقد کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت جناب عزیز اللہ بیگ چیرمین کرناٹک اردو اکادمی نے کی اور اردو کے پودے کو پانی دے کر افتتاح فرمایا۔ بعد ازاں آپ نے اساتذہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اساتذہ اپنے فرض کو سمجھیں اور نبھائیں ، مزید کہا کہ اپنے اور دیگر اداروں کی کارکردگی کا محاسبہ بھی کرنا چاہئے ، ساتھ ساتھ تنقیدی نظر اور احتجاجی رویہ بھی ضروری ہے۔ اپنے حقوق کے حصول میں یہ طریقۂ کار مفید ہے۔ مہمانِ اعزیزی پروفیر م.ن. سعید صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ اردو کے فروغ میں اساتذہ اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ بشرطیکہ منصب سے انصاف کریں۔ اردو زبان کے تئیں مایوسی کا رویہ ترک کرکے مثبت سوچ و فکر کی عادت ڈالیں۔ نصاب کے تعلق سے آپ نے کہا کہ نصاب طلباء و اساتذہ کے دلچسپی کا باعث ہو، ساتھ ساتھ ادب کی روح سے پُر ہو۔ ایک اور مہمانِ اعزازی ڈاکٹر شائستہ یوسف صاحبہ نے کہا کہ اردو شیریں زبان ہے، قومی یکجہتی کی زبان ہے۔ اس کے فروغ کو زندگی کا اہم حصہ بنانا چاہئے۔ مہذب اور خوش خلقی کے دائرہ میں رہ کر ہم کو کام کرناچاہئے۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر نصرت امین جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی نے کہا کہ نصاب کی تدوین تدریس کا پہلا اور اہم مرحلہ ہے۔ نصاب میں ان مضامین کو شامل کرنا چاہئے جو طلبا کے لئے مفید ہوں۔ ادب کے ساتھ سائنس، اصلاحی مضامین کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ڈاکٹر مشتاق صدف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے کہا کہ نصاب فحش و عریاں نہ ہو اخلاقیات پر مبنی ہو۔ نصاب کی تدوین میں سہل سے مشکل کی طرف نظر ہو۔ ابتدائی مراحل میں مشکل نصاب طلبا کے مسائل میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ ظہرانہ کے بعد اساتذہ نے آپس میں گروپ کی شکل میں نصاب پر تبادلۂ خیال کیا۔ ہر ایک گروپ کے نمائندہ کی حیثیت سے پروفیسر صبیحہ زبیر، ڈاکٹر زبیدہ بیگم، ڈاکٹر آر محمد، پروفیسر ضمیرہ بیگم، پروفیسر امجد خاں، ڈاکٹر اقبال النساء وغیرہ نے اظہار خیال کیا۔ پروفیسر محمد منظور نعمان سکریٹری انجمن ہذا نے نظامت کے دوران کہا کہ نصاب میں مذہبی مضامین طلباء کی کردار سازی کے لئے ممد و معاون ہوں گے۔ آپ نے کارگاہ کے اغراض و مقاصد پر بھی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر آر محمد نے قرأت پڑھی، نجمہ انصاری کی نعت، مسکان کی نظم اردو نے محفل میں عجیب سماں باندھ دیا۔ ڈاکٹر زبیدہ بیگم و پروفیسر سروری صدیقہ خازن نے استقبال و تعارف، ڈاکٹر ثناء اللہ شریف نائب صدر نے شکریہ ادا کیا۔ پروفیسر کے بی منیر احمد جوائنٹ سکریٹری، پروفیسر اعجاز قاضی، پروفیسر عبد الرحیم وغیرہ نے ورکشاپ کے انعقاد میں کافی جدوجہد کی۔ اساتذہ کی بڑی تعداد نے استفادہ کیا۔ طلبا میں سے لال بہادر شاستری گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج کی طالبہ رابعہ قلندر نے اظہار خیال کیا۔ اکادمی کے رجسٹرارجناب سراج احمد خالد نے اس ورکشاپ میں انعقاد میں مکمل تعاون کیا۔ بصمیم قبل ان کا بھی شکریہ ادا کیا جاتا ہے ۔