عدالتی پینل کی سفارش؛ اخوان المسلمون کو تحلیل کیا جائے

11:48AM Tue 3 Sep, 2013

قاہرہ۔ 2 ستمبر (رائٹر)1928 ء میں قائم کی گئی رجسٹرڈ اخوان المسلمون کو آج مصر کی ایک عدالتی پینل نے غیر قانونی تنظیم قرار دیتے ہوئے اسے تحلیل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ۔ اخوان المسلمون کے مخالفین کی جانب سے مارچ میں تحریک کی جانب سے رجسٹرڈ این جی او کی تحلیل کی اپیل کرتے ہوئے کیس دائر کیا گیا ہے۔ عدالت نے اس کیس کی آئندہ سماعت 12نومبر کو مقرر کی ہے۔ عدالتی ذرائع نے یہ بات بتائی۔ اخوان المسلمون 1928ء میں قائم کی گئی اور سابق میں مصر کے فوجی عہدیداروں نے 1954ء میں اس کو تحلیل کردیا۔ عدالتی پینل کی سفارش کی پابندی کرنا عدالت کے لئے لازمی نہیں ہے۔ اخوان المسلمون نے ماضی میں ایک ممنوعہ تنظیم کی حیثیت سے 2011ء میں حسنی مبارک کی معزولی تک کئی دہوں تک کام کیا ہے۔ بعد ازاں تحریک نے سلسلہ وار کئی انتخابات میں کامیابیاں حاصل کیں۔ فوج نے اخوان المسلمون سے وابستگی رکھنے والے محمدمرسی کے خلاف عوامی مظاہروں کے بعد 3جولائی کو انہیں بے دخل کردیا۔ طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ سکیورٹی حکام کے مطابق فرنٹیئر کور کے ٹوچی سکاؤٹس کا قافلہ دتہ خیل روڑ پر جا رہا تھا کہ بویا کے مقام پر سڑک کے کنارے نصب دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا جس میں نو اہلکار ہلاک ہو گئے۔ شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ کے مقامی لوگوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا ہے کہ بم حملے میں چودہ اہلکار زخمی ہوئے ہیں لیکن حکام نے زخمیوں کی تصدیق نہیں کی۔اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کے مختلف مقامات پر اتوار کے روز کرفیو نافذ کر دیا جاتا ہے تاکہ سکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہ ہو۔ شمالی وزیرستان خودکش حملوں ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں، شدت پسندوں اور ڈرون حملوں کی زد میں رہا ہے اور وہاں سکیورٹی فورسز پر اس قسم کے حملے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔