نوٹ بندی اور امتحان سے کشمیر وادی میں بدامنی ختم ہو جائے گی تو یہ پاریکر کی غلط فہمی:فاروق

02:49PM Thu 17 Nov, 2016

سرینگر، (ایف او یس) وزیر دفاع منوہر پاریکر پر حملہ کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے آج کہا کہ اگر وہ سوچتے ہیں کہ نوٹ بندی اور بورڈ امتحانات سے کشمیر وادی میں بدامنی ختم ہو جائے گی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے اور طوفان دوبارہ کھڑا ہوگا۔آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ اگر ہندوستان ہندو راشٹر بنتا ہے تو کشمیر ملک کا حصہ نہیں رہے گا۔نیشنل کانفرنس ہیڈکوارٹر نوائی شبھ میں پارٹی کے ایک پروگرام کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ اگر وزیر دفاع سوچتے ہیں کہ امتحان اور کرنسی میں تبدیلی سے یہاں تنوں طوفان تھم جائے گا تو ان کی یہ غلط فہمی ہے،یہ طوفان تھمے گا نہیں،جو کچھ بھی وہ کرتے ہیں، یہ طوفان وہاں ہے اور امتحانات کے بعد وہ دیکھیں گے کہ طوفان ایک بار پھر پیدا ہو گا۔پاریکر نے پیر کو کہا تھا کہ بڑے نوٹوں کا چلن بند کئے جانے کے بعد سے دہشت گردانہ واقعات کا فنانسنگ صفر پر آ گیا ہے اور سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کا واقعہ نہیں ہوا ہے۔ عبداللہ نے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ انہوں نے انتہائی غلط بیان دیا ہے،اس بات میں ذرا بھی شک نہیں ہے کہ بچے امتحانات میں بیٹھے کیونکہ انہیں کورس میں 50فیصد کی چھوٹ ملی،کون 50فیصد رعایت دیتا ہے۔انہوں نے سوچا کہ رعایت کی وجہ سے وہ پاس کر جائیں گے۔جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی نے نوٹ بندی کے معاملے پر نریندر مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا ہدف جعلی کرنسی کی گردش بند کرنا تھا لیکن حکومت نے غریبوں کے مسائل کے بارے میں نہیں سوچا، جنہیں 24گھنٹے کے لئے قطار میں کھڑا ہونا پڑا اور پھر بھی انہیں رقم نہیں حاصل ہوئی۔