امریکہ کی فلسطین کو اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات نہیں کرنے پر مالی امدادبند کرنے کی دھمکی

03:06PM Fri 26 Jan, 2018

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر فلسطین امن مذاکرات میں حصہ نہیں لیتا ہے تو اسے دی جانے والی اقتصادی امداد روك دی جائے گی۔ بی بی سی نیوز نے آج یہ اطلاع دی۔ امریکی وزارت خارجہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ فلسطین کو مالی اور سلامتی کی امداد کے بند ہونے کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے کہا ’’مسٹر ٹرمپ فلسطین پر امریکہ کا احترام نه کرنے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور اس بات کو لے کر انہوں نے کہا ہے کہ جب آپ ہمارے لئے کچھ بھی نہیں کرتے ہیں تو ہمیں آپ كے لئے کچھ بھی كيوں کرنا چاہئے‘‘۔
 قابل ذکر ہے کہ فلسطین نے اسرائیلی اور فلسطینیوں کے درمیان پیش کردہ مجوزہ مذاکرات میں امریکہ کے غیر جانبدار کردار کو مسترد کردیا ہے۔ یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت اعلان کرنے کے امریکی فیصلے سے فلسطین خفاہے۔ فلسطین کے سابق مذاکرات كار صائب ارکات نے مسٹر ٹرمپ پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا ’’آپ اپنی دولت سے وہ بہت ساری چیزیں خرید سکتے ہیں لیکن وہ ہمارے ملک کی سالمیت کو نہیں خرید سکتے ہیں‘‘۔ مسٹر ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ کے ڈاووس میں عالمی اقتصادی فورم کانفرنس میں حصہ لیتے ہوئے کہا ’’امریکہ نے فلسطین کو اقتصادی مدد اور مدد کے طور پر کروڑوں ڈالر کی رقم فراہم کی ہے لیکن فلسطین قیادت نے اس ہفتے ہمارے نائب صدر مائیک پنس سے ملنے سے منع کرکے ان کی اور ہماری بے عزتی کی ہے اور وہ پہلے صدر ہیں جو امن مذاکرات کو مالی تعاون سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں ۔یہ رقم اب بھی میز پر پڑی ہوئی ہے لیکن جب تک وہ بات چیت کی کی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے تب تک انہیں نہیں دی جائے گی‘‘۔
انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی موجودگی میں کہا ’’میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ اسرائیل امن چاہتا ہے اور انہیں بھی امن ہی چاہئے لیکن اگر فلسطین ایسا نہیں کرتا ہے تو ہم پھر آپ کے لئے کچھ بھی نہیں کرنے جا رہے ہیں‘‘۔ وزارت خارجہ نے اگرچہ بعد میں واضح کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر ٹرمپ اقتصادی مدد کی بات نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کا اشارہ دو طرفہ مالی مدد کی طرف تھا۔ یہ پہلی بار ہے کہ امریکہ نے فلسطین کو امن مذاکرات میں حصہ لینے کے لئے مجبور کرنے کے لئے اس طرح کی شرط رکھی ہے۔۔ وزارت خارجہ کی ترجمان هيتھر نوراٹ کے مطابق لوگوں کو بات چیت کی میز تک لانے کے لئے صرف ایک یہی راستہ بچا ہے۔